فیصل صالح کیس میں جج تبدیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہورہائیکورٹ نے وفاقی وزیر برائے کشمیر و شمالی علاقہ جات فیصل صالح حیات کے خلاف پانچ سال سے چلنے والے قرضے کی دانستہ نادہندگی کے ریفرنس کی سماعت ان کی درخواست پر ایک احتساب عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل کردی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ افتخار چودھری نے اس رٹ درخواست کی خود سماعت کی۔ نیب کے پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر نے عدالت عالیہ سے کہا کہ نیب نے وفاقی وزیر فیصل صالح حیات کے خلاف ریفرنس واپس نہیں لیا اور نیب کو ریفرنس کی سماعت کسی دوسرے جج کے پاس منتقل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے یہ بھی کہا کہ قرضہ کا معاملہ اسٹیٹ بنک کی ثالثی کمیٹی میں طے پا چکا ہے اور قانون کے مطابق نیب کمیٹی کے فیصلہ کو ماننے کی پابند ہے۔ وفاقی وزیر پر شاہ جیونہ ٹیکسٹائل ملز کے لیے حاصل کیے گئے تقریبا چوبیس کروڑ روپے قرضہ کی دانستہ نادہندگی کے الزام میں قومی احتساب بیورو (نیب) کا ایک ریفرنس پانچ سال سے لاہور کی ایک احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے۔ احتساب عدالت کے جج رانا زاہد محمود اس ریفرنس کی سماعت کررہے تھے اور اس مقدمہ میں استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہو چکے تھے اور ملزم کا بیان صفائی بھی جزوی طور پر ریکارڈ کر لیا گیا تھا۔ تاہم ملزم وفاقی وزیر بیان ریکارڈ کروانے کے دوران ایک سرکاری دورے پر چند ہفتوں کے لیے ملک سے باہر چلے گئے تھے اور وفاقی وزارت داخلہ نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ان کا نام ہوتے ہوئے انہیں باہر جانے کی اجازت دی تھی۔ اس پر احتساب جج رانا زاہد محمود نے وزارت داخلہ سے کہا تھا کہ آئندہ ملزم کو ان کی عدالت کی اجازت کے بغیر باہر جانے کی اجازت نہ دی جائے۔ اسی مقدمہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی وزیر کی ضمانت منسوخ کردی تھی اور احتساب جج کو میرٹ پر فیصلہ کرنے کے لیے کہا تھا۔ گزشتہ سماعت کے موقع پر احتساب جج نے اس نکتہ پر سماعت کی تھی کہ کیا وفاقی وزیر کو ضمانت کی منسوخی کے بعد گرفتار کیا جائے یا نہیں اور کیا ان کی عدالت سے استثناء کی درخواست کو قبول کیا جائے یا نہیں۔ ملزم نے احتساب عدالت میں بریت کی یہ درخواست بھی دی تھی کہ اسٹیٹ بنک کی قرضوں کی ادائیگی سے متعلق ثالثی کمیٹی میں ان کے قرضہ کا معاملہ طے پاچکا ہے اور اب یہ مقدمہ ختم ہوجانا چاہیے اور ان کو بری کیا جائے۔اس پر عدالت نے نیب کے چیئرمین سے تحریری جواب طلب کیا تھا۔ تاہم اسی دوران وفاقی وزیر فیصل صالح حیات بیرون ملک دورے سے واپس آ گئے اور انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں اپنے خلاف مقدمہ کو جج رانا زاہد محمود سے کسی دوسرے جج کے پاس منتقل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس جج سے انصاف کی توقع نہیں۔ اب یہ مقدمہ کی سماعت احتساب عدالت کے جج کرامت ساہی کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||