بدر: نیب ریفرنس پر فیصلہ ملتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو لاہور کی ایک احتساب عدالت نے پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیر برائے پٹرولیم جہانگیر بدر کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں ریفرنس پر فیصلہ تین مئی تک ملتوی کردیا۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے جہانگیر بدر پر ان کے وزیر پٹرولیم کے دور میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو سرکاری ملازمتیں دینے کے الزام میں ریفرنس دائر کیا ہوا ہے۔ احتساب عدالت کے جج شفقات احمد نے قومی احتساب بیورو کی طرف سے دائر کیے گئے اس ریفرنس میں سماعت مکمل کرلی تھی۔ جج نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا اور توقع تھی کہ جج منگل کو فیصلے کا اعلان کریں گے۔ تاہم جہانگیر بدر کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل وقار میر نے احتساب جج کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کا ایک دو رکنی بینچ جہانگیر کی ایک رٹ درخواست کی سماعت کررہا ہے۔ اس درخواست پر ہائی کورٹ کے بینچ نے نیب کو درخواست پر جواب دینے کے لیے نوٹس دے دیا ہے جس کی سماعت دو مئی کو ہوگی۔ اس پر احتساب جج نے جہانگیر بدر کے ریفرنس میں فیصلہ نہیں سنایا اور تین مئی کی پیشی مقرر کردی۔ ہائی کورٹ کا بینچ جج سردار اسلم اور جج رستم علی ملک پر مشتمل ہے۔ جہانگیر بدر نے لاہور ہائی کورٹ میں دی گئی درخواست میں کہا ہے کہ ان کے خلاف ریفرنس میں انہوں نے احتساب جج سے کہا تھا کہ وہ الزامات سے متعلق سرکاری ریکارڈ عدالت میں منگوائیں جو ان کو بے گناہ ثابت کرسکتا ہے لیکن جج نے ان کی درخواست خارج کردی۔ جہانگیر بدر کا موقف تھا کہ اس ریکارڈ کو نہ منگوانے سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔ ان کا موقف تھا کہ ان کے خلاف ریفرنس سیاسی انتقام کے لیے دائر کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||