سٹیل مل نجکاری، سماعت مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی عدالتِ عظمٰی نے سٹیل ملز کی نجکاری کے خلاف کیس کی سماعت پیر تک مؤخر کر دی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں نو رکنی بنچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ اس کیس میں نجکاری کو چیلنج کرنے والے وکلا اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں جبکہ نجکاری کمیشن کے وکیل اور کنسورشیم کے وکلا اگلے ہفتے بھی اپنے دلائل دیں گے۔ جمعرات کو مقدمے کی سماعت کے دوران نجکاری کمیشن کے وکیل شریف الدین پیر زادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سٹیل ملز کی نجکاری میں کسی قسم کی بے ضابطگی نہیں ہوئی۔ اس برس اکتیس مارچ کو روسی، سعودی اور پاکستانی نجی کمپنیوں کے کنسورشیم نے اکیس ارب سڑسٹھ کروڑ روپے کی بولی دے کر پاکستان سٹیل کے پچھہتر فیصد حصص حاصل کیئے تھے۔ سٹیل ملز کی نئی انتظامیہ نےگزشتہ ماہ کی انتیس تاریخ کو ادارے کا کنٹرول سنبھالنا تھا تاہم سپریم کورٹ نے حکم امتناعی کے ذریعے اس کنسورشیم کو پندرہ جون تک سٹیل ملز کا انتظام سنبھالنے سے روک دیا تھا۔ اس نجکاری کے خلاف جہاں پاکستان کے پارلیمان میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے شدید احتجاج کیا تھا وہیں اس نجکاری کے خلاف پاکستان وطن پارٹی کے ایک رہنما ظفراللہ نے سپریم کورٹ میں اس نجکاری کو خلافِ قانون قرار دینے کی رٹ بھی دائر کی تھی۔ پاکستان سٹیل کے گیارہ یونیز پر مشتمل ایمپلائز ایکشن کمیٹی نے بھی اس نجکاری کو رد کیا تھا۔ اس نجکاری کے مخالفین کا کہنا ہے کہ سٹیل ملز کو اس کی موجودہ قیمت سے بہت کم قیمت پر بیچا گیا ہے اور سٹیل ملز کی ملک بھر میں موجود زمین کی قیمت ہی اس پوری نجکاری کی قیمت سے زیادہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے نجکاری کمیشن نے نجکاری سے قبل سٹیل ملز کی کم از کم مقرر کردہ قیمت بھی ظاہر نہیں کی جس سے لگتا ہے کہ یہ نجکاری کا عمل غیر شفاف تھا۔ ان کا یہ بھی دعوی ہے کہ صرف سٹیل ملز کے موجودہ اثاثوں کی قیمت ہی نجکاری کے لیے قبول کی گئی رقم سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی حکومت کا موقف ہے کہ سٹیل ملز قومی خزانے پر بوجھ تھی اور گزشتہ کئی عشروں سے مسلسل خسارے میں جا رہی تھی۔ | اسی بارے میں سٹیل ملز کی منتقلی پر حکم امتناعی24 May, 2006 | پاکستان سٹیل ملز: نجکاری کے بعد کشیدگی09 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||