سٹیل ملز کی منتقلی پر حکم امتناعی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی عدالت عظمی نے بدھ کو پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کے بارے میں کیس کی سماعت کے دوران سٹیل ملز کی نئی انتظامیہ کو پندرہ جون تک ادارے کا کنٹرول سنبھالنے سے روک دیا ہے۔ اکتیس مارچ کو روسی، سعودی اور پاکستانی نجی کمپنیوں کے کنسورشیم نے اکیس ارب سڑسٹھ کروڑ کی بولی دے کر پاکستان سٹیل کے پچھہتر فیصد حصص حاصل کیے تھے۔ ملک کے حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس نجکاری کو متنازع اور غیر شفاف قرار دیا تھا۔ سٹیل ملز کی نئی انتظامیہ نے اس ماہ کی انتیس تاریخ کو ادارے کا کنٹرول سنبھالنا تھا۔ اس نجکاری کے خلاف جہاں پاکستان کے پارلیمان میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے شدید احتجاج کیا تھا وہیں اس نجکاری کے خلاف پاکستان وطن پارٹی کے ایک رہنما ظفراللہ نے سپریم کورٹ میں اس نجکاری کو خلافِ قانون قرار دینے کی رٹ بھی دائر کی تھی۔ بدھ کی صبح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت کے نو رکنی بنچ نے اس کیس کی ابتدائی سماعت کے بعد سٹیل ملز کی نجکاری کے بعد کا عمل پندرہ جون تک روک دینے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ایکشن کمیٹی نے نئی انتظامیہ سے معاہدے پر دستخط کرنے سے بھی انکار کیا ہے۔ اس نجکاری کے مخالفین کا کہنا ہے کہ سٹیل ملز کو اس کی موجودہ قیمت سے بہت کم قیمت پر بیچا گیا ہے اور سٹیل ملز کی ملک بھر میں موجود زمین کی قیمت ہی اس پوری نجکاری کی قیمت سے زیادہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے نجکاری کمیشن نے نجکاری سے قبل سٹیل ملز کی کم از کم مقرر کردہ قیمت بھی ظاہر نہیں کی جس سے لگتا ہے کہ یہ نجکاری کا عمل غیر شفاف تھا۔ ان کا یہ بھی دعوی ہے کہ صرف سٹیل ملز کے موجودہ اثاثوں کی قیمت ہی نجکاری کے لیے قبول کی گئی رقم سے زیادہ ہے۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت تیس مئی سے باقاعدہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کی حکومت کا موقف ہے کہ سٹیل ملز قومی خزانے پر بوجھ تھی اور گزشتہ کئی عشروں سے مسلسل خسارے میں جا رہی تھی۔ | اسی بارے میں سٹیل ملز کے سابق اہلکار کو سزا13 May, 2005 | پاکستان سٹیل ملز: نجکاری کے بعد کشیدگی09 April, 2006 | پاکستان پی ٹی سی ایل تنصیبات ، فوج کا پہرہ 12 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||