فوجی آپریشن بند کرنے کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپنے آپ کو محکوم کہلوانے والی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم کے قائدین نے بلوچستان میں فوجی آپریشن اور وزیرستان میں فوجی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کوئٹہ کے میزان چوک پر ایک بڑے جلسئہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پونم کے مرکزی قائدین نے میثاق جمہوریت کے اس ایک نکتے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فوج اور خفیہ ایجنسیوں کا حکومت میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔ ان رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ تمام قوموں کو ان کے وسائل پر حق حاکمیت دیا جائے۔ اس جلسے میں کوئی پندرہ ہزار سے زیادہ لوگ موجود تھے جنہوں نے قوم پرست جماعتوں کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ شہر خصوصا گورنر ہاؤس اور وزیراعلی ہاؤس کی طرف جانے والی شاہراہوں پر ہر قسم کی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی تھی۔ شہر میں جگہ جگہ پولیس لیویز اور انسداد دہشت گردی کی فورس تعینات تھی۔ پونم کے صدر سردار عطاءاللہ مینگل نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف دو تحصیلوں کا ہے بلکہ بلوچستان کے اکثر اضلاع میں کارروائیاں ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس پاکستان میں پنجاب کے رہنے والوں کو روٹی ملے اور بلوچوں کے بچے بھوکے ہوں اور جس ملک میں جرنیلوں کے بنگلے ہوں اور بلوچوں کے بچوں کو جھونپڑی بھی دستیاب نہ ہوں تو ایسے پاکستان کا وہ کیا کریں۔ سردار عطاءاللہ منیگل نے کہا کہ یہ شاید آخری مرتبہ وہ پونم کے قائد کی حیثیت سے اس جلسے میں آئے ہیں اب وہ پونم کی قیادت سے دستبردار ہوتے ہیں۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور پونم کے لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں شامل اس ایک نکتے پر حمایت کرنے کو تیار ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت میں فوج یا خفیہ ایجنسیوں کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت، متحدہ مجلس عمل اور پونم کی متحدہ تحریک کا آغاز کوئٹہ سے کیا جائے۔ انہوں نے ہر قوم سے تعلق رکھنے والے علماء سے اس پر فتویٰ طلب کیا ہے کہ ان کے وسائل پر ان کے بچوں کا حق ہے یا پنجاب ہی سب پر قبضہ جمائے رکھے۔نیشنل پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر عبدالحئی نے اپنے جذباتی انداز میں وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ اس جلسے سے سندھ اور سرائیکی قوم پرست جماعتوں کے قائدین نے بھی خطاب کیا اور بلوچستان کے علاوہ وزیرستان میں فوجی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ | اسی بارے میں ’اےآرڈی کو پونم کا ساتھ چاہیئے‘21 September, 2004 | پاکستان چھوٹے صوبوں کے حقوق کا پھر مطالبہ16 August, 2004 | پاکستان پونم سیمینار: حکومت کی مذمت19 April, 2004 | پاکستان نئی آئین ساز اسمبلی کا مطالبہ23 February, 2004 | پاکستان بلوچستان میں فوجی آپریشن کا الزام07 July, 2004 | پاکستان کوئٹہ: نئے آئین کے حق میں بڑا جسلہ18 May, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||