بلوچستان میں فوجی آپریشن کا الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپنے آپ کو محکوم قرار دینے والی قوم پرست جماعتوں پر مبنی تنظیم پونم کے قائدین نے کہا ہے کہ حکومت نے صوبے کے مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ فوجی آپریشن کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ سوئی مستونگ اور کوہلو کے علاقے میں فوج تعینات کی جارہی ہے۔ جبکہ دوسری جانب گورنر بلوچستان اویس احمد غنی نے کہا ہے کہ صوبے میں فوجی آپریشن کی کوئی تیاری نہیں ہورہی بلکہ قوم پرست جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کی جا رہی ہیں تاکہ ان کے خدشات دور کیے جا سکیں۔ منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے پونم کے ایک لیڈر اور سابق وزیراعلی سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ فوجیوں کی مختلف علاقوں میں تعیناتی یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کسی بڑے فوجی آپریشن کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس بارے میں قوم پرست جماعتیں جمہوری انداز میں احتجاج کررہی ہیں اور اگر انھیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی توذمہ داری حکومت پر ہو گی۔ ان سے جب کہا گیا کہ گورنر بلوچستان نے کہا ہے کہ صوبے میں کسی قسم کا کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا تو انھوں نہ کہا کہ اعلی سطح کے ایک اجلاس میں جس میں وزیراعلی گورنر اور کور کمانڈر شرکت کرتے ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ اجلاس امن و امان کے حوالے سے منعقد ہوا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟ انھوں نے کہا ہے کہ وہ خود بھی وزیراعلی رہ چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس اجلاس میں کور کمانڈر کی شرکت کے کیا معنی ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ جب فوج حرکت میں آتی ہے تو وہ صرف وزیراعلی کے احکامات پر نہیں بلکہ کور کمانڈر اس میں شامل ہوتا ہے اور مرکز سے ہدایات آتی ہیں۔ اس اخباری کانفرنس میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ اور نیشنل پارٹی کے قائدین بھی موجود تھے۔ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سابق سینیٹر اکرم شاہ نہ کہا ہے کہ پونم میں شامل تمام جماعتیں اکٹھی ہیں اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا ہے کہ سیاسی کارکنوں کی گرفتاری اور قائدین کے خلاف مقدمے قائم کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ نیشنل پارٹی کے رہنما طاہر بزنجو نے کہا ہے کہ پچاسی سے زائد کارکنوں اور لیڈروں کے خلاف مقدمے قائم کیے گئے ہیں جبکہ کئی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔اس حوالے سے انھوں نے کہا ہے کہ وہ قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||