پاکستان تو جائیں گے: بےنظیر، نواز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے لندن میں اتوار کو ایک ماہ کے دوران دوسری ملاقات کی ہے جو ابھی جاری ہے۔ تاہم ملاقات کے پہلے مرحلے کے بعد دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ اگلے برس وہ دونوں پاکستان جائیں گے۔ مسلم لیگ نون کے رہنما نواز شریف نے صحافیوں کو بتایا کہ اگلے برس کے متوقع انتخابات اگر جنرل مشرف کی زیرِ نگرانی ہوئے تو ان انتخابات میں دھاندلی پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے نئی حکمت عملی کی تشکیل کی غرض سے ملک کے دو سابق جلا وطن رہنماؤں کے درمیان لندن میں اتوار کی دوپہر بات چیت شروع ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے بات چیت کے پہلے دور کے بعد میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا: ’ہمارے درمیان بظاہر کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘ بےنظیر بھٹواور نواز شریف کے درمیان یہ ملاقات اتوار کی دوپہر گیارہ بجے شروع ہونا تھی لیکن اس میں چار گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ دنوں اطراف سے اس تاخیر کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ فریقین معاہدے کے مسودے کی شقوں پر اتفاقِ رائے میں مصروف تھے۔ نامہ نگار مظہر زیدی کے مطابق دونوں سابق وزرائے اعظم ساڑھے تین بجے کے قریب ملاقات کے لیئے پہنچے۔ اس موقع پر صحافیوں اور دونوں جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بے نظیر اور نواز شریف کی آمد پر پیپلز پارٹی اور نواز مسلم لیگ کے کارکنوں نےاپنے اپنے رہنما کے حق میں نعرے لگائے۔بےنظیر بھٹو اور نواز شریف پریس سے بات کیئے بغیر ملاقات کے لیئے چلے گئے۔ ایک موقع پر جنرل مشرف کے حمایتی نوجوانوں کا ایک گروہ بھی اسی مقام پر آگیا جہاں دونوں پارٹیوں کے کارکن موجود تھے۔ پہلے گروہ نے جنرل مشرف کے حق میں نعرے لگائے تو دوسرے دونوں گروہوں نے اپنے اپنے رہنماؤں کے حق میں نعرے بازی کی۔ پیپلز پارٹی کے ایک رہنما رحمن ملک کے فلیٹ پر ہونے والی اس ملاقات سے پہلے ہی مسلم لیگ نواز کا ایک تین رکنی وفد جس میں اقبال ظفر جھگڑا، احسن اقبال اور غوث علی شاہ شامل ہیں، بارہ بجے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری انفارمیشن احسن اقبال نے بتایا تھا کہ معاہدے کو حتمی شکل دی جارہی ہے اور اس سلسلے میں دونوں پارٹیوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے اور اسے اغلاط سے مبرہ ہونا چاہئیے اسی لئے ملاقات میں کچھ دیر ہورہی ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ہونے والے مشترکہ معاہدے کو ،’چارٹر آف ڈیموکریسی‘ کا نام دیا جارہا ہے۔
اُس موقع پر دونوں رہنماؤں نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر ممکنہ سمجھوتے کے لیے 14 مئی کو دوبارہ ملنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے رد عمل کے طور پر پاکستان کے نئے وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے وزارت سنبھالنے کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں 14 مئی کے ملاقات اور اپوزیشن کی ان کوششوں کو ’ایک نیا ڈرامہ‘ قرار دیا تھا۔ آج ہونے والی ملاقات میں شرکت کے لیئے دونوں پارٹیوں کے دیگر رہنما بھی لندن پہنچ چکے ہیں۔ پچھلی ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے بے نظیر بھٹو کے ہمراہ مخدوم امین فہیم ، رحمن ملک اور واجد شمس الحسن شریک ہوئے تھے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی میاں نواز شریف ، میاں شہباز شریف، اقبال ظفر جھگڑا اور سید غوث علی شاہ نے کی تھی۔ | اسی بارے میں ’نواز شریف، بینظیر واپس جائیں گے‘15 April, 2006 | پاکستان بے نظیر، نواز شریف ملاقات پیرکو22 April, 2006 | پاکستان بے نظیر نواز ملاقات کی وڈیو کوریج 24 April, 2006 | پاکستان نواز، بےنظیر ملاقات آج ہوگی24 April, 2006 | پاکستان ’بینظیر، نواز آجائیں لیکن جیل۔۔۔‘07 May, 2006 | پاکستان ’بےنظیر، نواز میٹنگ نیا ڈرامہ ہے‘11 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||