BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 May, 2006, 17:05 GMT 22:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بینظیر، نواز آجائیں لیکن جیل۔۔۔‘

شیخ رشید ان دنوں ریلوے کے وزیر ہیں
پاکستان کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو واپس آنے سے کوئی نہیں روک رہا مگر جیل سیاستدانوں کے لیے زیور ہوتی ہے۔

یہ بات انہوں نے اتوار کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ اپنے تندو تیز بیانات کے لیے مشہور سابق وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کے پاس ان دنوں ریلوے کی وزارت کا قلمدان ہے۔

لیکن یہ ممکن نہیں تھا کہ شیخ رشید کی وزارت سے متعلق پریس کانفرنس صرف ریلوے تک ہی محدود رہے۔ ہوا بھی ایسا ہی اور سوال جواب ریلوے کے صورتحال سے بڑھ کر ملکی سیاسی منظر نامے تک جا پہنچے۔

اس سوال پر کہ اگر سابق وزرائے اعظم بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے زاہدان، کھوکھراپار یا واہگہ کے زمینی راستوں سے پاکستان واپس آنے کی کوشش کی تو کیا ریلوے حکام اس کی اجاز ت دیں گے، شیخ رشید کا جواب تھا کہ دونوں کو واپس آنے سے کوئی نہیں روک رہا جبکہ جیل جانا سیاستدانوں کا زیور ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ بطور وزیراطلاعات، شیخ رشید کا ہمیشہ یہ اصرار رہا تھا کہ میاں نواز شریف نے جنرل مشرف کے ساتھ دس برس تک بیرون ملک رہنے کا باقاعدہ تحریری معاہدہ کیا ہے اور وہ اس سے پہلے واپس نہیں آسکتے۔ میاں نواز شریف نے ہمیشہ اس کی تردید کی ہے۔

پریس کانفرنس میں شیخ رشید سے وزارت اطلاعات کی ذمہ داری واپس لیے جانے پر بھی صحافیوں کی توجہ مرکوز رہی کیونکہ سیاسی تجزیہ نگار وزارت اطلاعات سے سبکدوشی کو شیخ رشید کی تنزلی سے تعبیر کررہے ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا وزیرستان پر مشرف حکومت کی پالیسی سے اختلاف اس سبکدوشی کی وجہ ہے، شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیرستان پر اپنے تحفظات پر انہیں کوئی ندامت نہیں ہے اور انہوں نے ان تحفظات کا برملا اظہار کیا تھا۔

شیخ رشید نے بتایا کہ جنرل مشرف نے ان کی اس تجویز کو سراہا ہے کہ ایران سے پاکستان کے لیےگیس پائپ لائن کو موجودہ ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ بچھایا جائے۔ ان کے مطابق نہ صرف یہ بلکہ کسی اور بھی پائپ لائن کو اس طرح ریلوے کی زمین پر بچھانے سے ہونے والی آمدنی ریلوے کو بہت بہتر بناسکتی ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ ریلوے نظام کو گوادر تک پھیلایا جائے گا جبکہ چین نے بھی کاشغر تا اسلام آباد ریل رابطے کی تجویز پیش کی ہے۔

وفاقی وزیر نے کھوکھراپار سے براستہ میرپور خاص کراچی تک عام لوگوں کے لیے ٹرین چلانے، نجی شعبے کو اپنی بوگیوں اور انجن کے ساتھ چار ٹرینیں چلانے کی اجازت دینے کا بھی اعلان کیا۔

شیخ رشید نے موجودہ وزیرتعلیم اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل جاوید اشرف قاضی کے بطور ریلوے وزیر دور میں چین سے بوگیاں اور انجن کی خریداری کے سودوں میں مبینہ بدعنوانیوں کی تفتیش کرانے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ ماضی سے زیادہ حال اور مستقبل پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد