BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 April, 2006, 15:11 GMT 20:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معاہدہ: عمران کی مشروط حمایت

بینظیر نواز شریف
مبصرین کا خیال ہے کہ اس ملاقات نے آئندہ کے سیاسی ڈھانچے کے لیے بینظیر بھٹو کی ’بارگیننگ پوزیشن‘ مضبوط ہوگئی ہے
پاکستان کے دو جلاوطن وزراءِ اعظم کے درمیاں پیر کو لندن میں ہونے والی ملاقات کی خبروں کو جہاں پاکستان کے ذرائع ابلاغ نے خاصی اہمیت دی ہے وہاں سیاسی حلقوں میں بھی اس کے چرچے ہیں۔

تحریک انصاف سربراہ عمران خان نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے مجوزہ چارٹر آف ڈیموکریسی کی مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔

کراچی پریس کلب میں منگل کی شام ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ اگر بینظیر اور نواز شریف اس بات کی یقین دہانی کروائیں کہ عدالت، الیکشن کمیشن اور قومی احتساب بیورو آزاد اور خود مختار ہونگے تو وہ ان کے اتحاد کی حمایت کرنے کو تیار ہیں۔

لندن میں پاکستان کی دو بڑی جماعتوں کی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوں عمران خان نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کو اس چیز پر متفق ہوجانا چاہئے کہ کسی صورت میں فوجی آمریت قبول نہیں اور جنرل مشرف سے کوئی بات چیت نہیں کی جائیگی کیونکہ اب بات کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

اس ملاقات کے متعلق پاکستان میں حزب مخالف کے مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر اور نواز شریف نے کوئی نئی بات نہیں کہی۔ ان کے مطابق ’چارٹر آف ڈیموکریسی‘ کے بہت سے نکات پر پہلے ہی ’اے آر ڈی‘ اور ’ایم ایم اے‘ کے درمیاں اتفاق رائے ہوچکا ہے اور اب یہ وقت صدر مشرف کے خلاف باتیں کرنے کا نہیں بلکہ عملی طور پر میدان میں آنے کا ہے۔

بیشتر اخبارات کے صفحہ اول پر اخبارات نے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی اس ملاقات کی تفصیلی خبریں شائع کی ہیں اور الیکٹرانک میڈیا نے بھی اس ملاقات کے بارے میں خبروں کے ساتھ ساتھ خصوصی تجزیے اور تبصرے بھی نشر کیے ہیں۔

دونوں وزراءِ اعظم ماضی میں ایک دوسرے کے شدید سیاسی مخالف رہے ہیں اور صدر جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد گزشتہ چند برسوں سے ملک سے باہر ہیں۔ میاں نواز شریف کے بارے میں حکومت کہتی ہے کہ وہ ایک سمجھوتے کے تحت ملک سے باہر چلے گئے جبکہ بینظیر بھٹو ان کے مطابق مقدمات کی وجہ سے خود ساختہ جلاوطنی کے دن گزار رہی ہیں۔

جب صدر مشرف نے ان دونوں سابق وزراء اعظم کو دوبارہ اقتدار میں آنے نہ دینے کا اعلان کیا اور اپنے ’سیاسی اصلاحات‘ کے تحت یہ قانون بنادیا کہ دو بار وزیراعظم رہنے والا شخص تیسری بار اس عہدے پر فائز نہیں ہوسکتا تو ان رہنماؤں کی سیاسی جماعتوں نے ’اتحاد برائے بحالی جمہوریت‘ کے نام سے سیاسی پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیاں جلاوطنی کے دوران یہ دوسری ملاقات تھی۔ اس سے پہلے بینظیر بھٹو جدہ میں میاں نواز شریف کے والد کی وفات کے بعد تعزیت کے لیے گئیں تھیں۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں ملاقاتوں کے دوران بینظیر بھٹو خود چل کر میاں نواز شریف کی رہائش گاہ پر گئی ہیں۔

پاکستان میں جیسے ہی سن دوہزار سات میں عام انتخابات کی باتیں شروع ہوئیں اور امریکہ نے کھل کر آئندہ عام انتخابات کو شفاف بنانے اور فوج کے سویلین حکومت کے طابع رہنے کے بیانات آنا شروع ہوئے تو حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں میں بظاہر لگتا ہے کہ جان پڑ گئی ہے۔

کچھ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ لندن میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی ملاقات سے صدر مشرف اور ان کی حامی سیاسی جماعتوں پر ایک لحاظ سے دباؤ بڑھ گیا ہے۔

جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ اس ملاقات نے آئندہ کے سیاسی ڈھانچے کے لیے بینظیر بھٹو کی ’بارگیننگ پوزیشن‘ مضبوط ہوگئی ہے اور ان کے مطابق شاید یہ ہی وجہ ہے کہ وہ خود چل کر نواز شریف کی رہائش گاہ پرگئیں۔

دونوں سابق وزراءِ اعظم کی ملاقات کے محض ایک دن بعد پاکستان حکومت نے اپنی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردو بدل کیا ہے اور کچھ مبصرین کہتے ہیں کہ اچانک ایسا کرنا نواز بینظیر ملاقات کے دباؤ کی پہلی علامت ہوسکتی ہے ۔

ان مبصرین کا کہنا ہے کہ کابینہ میں عجلت میں کی گئی توسیع کا تعلق اس لیے بھی وہ لندن ملاقات سے جوڑتے ہیں کہ ان کے مطابق نئے وزراء میں سے کوئی بھی غیر مسلم لیگی نہیں۔

جس پر ان کی نظر میں حکومتی اتحاد کی دو بڑی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کو تحفظات ہیں اور اس کا وہ اظہار چند روز میں کھل کر بھی کرسکتے ہیں۔ مبصرین کی رائے اپنی جگہ لیکن حکومت ایسے تاثر کو یکسر مسترد کرتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد