تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی کابینہ میں آج بڑے پیمانے پر ردو بدل کیا گیا ہے جبکہ چھ نئے وفاقی وزرا اور تین وزیر مملکت نے بھی اپنے عہدوں کا حلف اٹھایاہے۔ کابینہ میں نئے وزیروں کی شمولیت سے کابینہ کے ارکان کی تعداد ساٹھ سے تجاوز کر گئی ہے جو ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید کو تبدیل کر کے ان کی جگہ محمد علی درانی کو وزارت اطلاعات کا قلمدان سونپا گیا ہے جبکہ شیخ رشید کو ریلوے کا وزیر بنایا گیا ہے۔ وزیر اعظم کی مشیر برائے بہبود خواتین کو وزارت سیاحت کا قلمدان جبکہ زاہد حامد کو وزارت نج کاری اور سرمایہ کاری سونپی گئی ہے۔ سابق صدر فاروق لغاری کی بھانجی سمیرا ملک کو وزارت خواتین اور امور نوجوانان کا وفاقی وزیر مقرر کیا گیا ہے۔
مسلم لیگ کے سابق سیکریٹری جنرل سلیم سیف اللہ کو وزارت بین الصوبائی رابطوں کی ذمہ داری جبکہ امیر مقام کو سیاسی معاملات کا وزیر بنایا گیا ہے۔ سید غازی گلاب جمال کو ثقافت اور مخدوم فیصل صالح حیات کو ماحولیات کی وزارتیں دی گئی ہیں جبکہ میجر طاہر اقبال کو فیصل صالح حیات کی جگہ کمشیر اور شمالی علاقہ جات کا وزیر بنایا گیا ہے۔ وزیر ریلوے شمیم حیدر کو وزارت کھیل دی گئی ہے۔ وزارت مملکت کے قلمدانوں کے لیئے علی اسجد ملہی کو ریلوے، طارق عظیم کو وزارت اطلاعات، انیسہ زیب طاہر خیلی کو وزارت تعلیم، ظفر وڑائچ کو وزارت داخلہ، غلام بی بی بھروانہ کو امور نوجوانان، رضا حیات ہراج کو بیرون ملک پاکستانیوں،اسحاق خاکوانی کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، خالد لنڈ کو دفاع، مشتاق وکٹر کو اقلیتوں اور کامل علی آغا کو پارلیمانی امور کے لیئے منتخب کیا گیا ہے۔ آج جن چھ وفاقی وزرا نے حلف اٹھایا ان میں سینیٹر محمد علی درانی، سینیٹر نیلوفر بختیار، سینیٹر سلیم سیف اللہ خان،انجینئر امیر مقام، سمیرا ملک اور زاہد حامد شامل ہیں جبکہ وزرائے مملکت کے عہدے پر مشتاق وکٹر، کامل علی آغا اور خالد احمد خان لنڈ شامل ہیں۔ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے اراکین وزیر بننے کے لیئے گزشتہ چند ہفتوں سے لابنگ کر رہے تھے۔نئے وزرا میں سے بیشتر کا تعلق حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) سے ہے۔ نئے وزرا کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی اور صدر جنرل پرویز مشرف نے ان سے حلف لیا۔اس موقع پر وزیر اعظم شوکت عزیز اور سینیئر فوجی و سول حکام بھی موجود تھے۔ وزارت اطلاعات سے سبکدوش ہونے والے اور نئے وزیر ریلوے شیخ رشید سے جب صحافیوں نے ایک پریس کانفرنس میں کابینہ میں ردو بدل کی وجہ دریافت کرنا چاہی تو انہوں نے کہا کہ اس کی وجوہات سب کو معلوم ہیں اور ان کی کارکردگی بہتر رہی تاہم ان کو آنے والے الیکشن اور سیاسی امور پر منہ پھٹ اور صاف گو ہونے کی وجہ سے تبدیل کیا گیا۔ ان سے جب بلوچستان اور وزیرستان کی صورتحال اور حکومتی حکمت عملی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ بلوچستان کے بارے میں حکومت کے ساتھ ہیں تاہم وزیرستان کے بارے میں ان کے تحفظات ہیں۔ | اسی بارے میں پاکستانی وزراء کی مراعات01 December, 2004 | پاکستان ’ کسی سردار کا مزارع نہیں‘17 January, 2005 | پاکستان کابینہ میں توسیع کے لیے مشاورت17 March, 2006 | پاکستان کابینہ میں نئے وزراء کی شمولیت25 April, 2006 | پاکستان پاکستان: کابینہ آج حلف لے گی01 September, 2004 | پاکستان بلوچستان کابینہ میں سولہ نئے وزیر02 January, 2004 | پاکستان پنجاب کابینہ میں توسیع25 November, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||