پاکستانی وزراء کی مراعات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں وفاقی وزیر کی ماہانہ تنخواہ اور الاؤنسز کی مد میں چوہتر ہزار جبکہ وزیر مملکت کو اکہتر ہزار پچاس روپے دیے جاتے ہیں۔ یہ معلومات حکومت کی جانب سے منگل کے روز پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں سینیٹر سید ہدایت اللہ کے سوال کے جواب میں پیش کی گئیں۔ پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز کی کابینہ میں اس وقت ساٹھ کے لگ بھگ وفاقی وزیر اور وزرائے مملکت شامل ہیں۔ ان کی کابینہ ملک کی ایک بڑی کابینہ سمجھی جاتی ہے۔ جس کی وجہ حکومت کے مطابق پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اراکین کی تعداد میں اضافہ بتائی جاتی رہی ہے۔ موجودہ قانون کے مطابق تنخواہ کے علاوہ ہر وزیر کو مفت سرکاری رہائش فراہم کی جاتی ہے۔ جو وزیر ذاتی مکان میں رہنا چاہیں یا سرکاری رہائش کی عدم دستیابی کی صورت میں حکومت انہیں چالیس ہزار روپے ماہانہ کرایہ ادا کرتی ہے۔ وزارت کی ذمہ داری سنبھالتےوقت اور وزارت چھوڑنے کے بعد آبائی گھر منتقلی تک ہر وزیر کو اہلِخانہ اور دو ملازمین کی منتقلی کے تمام اخراجات ادا کیے جاتے ہیں۔ اس مد میں چھ ماہ کے اندر درخواست دینا لازم ہوتا ہے اور مقررہ مدت کے بعد کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ قانون کے مطابق ہر وزیر کو اہل خانہ سمیت مفت میڈیکل، رہائش، اندرونِ ملک مفت فون ، کار مع ڈرائیور اور ایندھن کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان مدوں میں اخراجات کی کوئی حد مقرر نہیں۔ وزیر بننے کے بعد مکان کی تزئین وآرائش کے لیے ایک لاکھ روپے اور’ایکوپمینٹ الاؤنس‘ کی مد میں پانچ ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ سرکاری دورے کے دوران ہر وزیر یومیہ ساڑھے پانچ سو روپے الائونس لینے کا بھی مجاز ہے۔ وزراء کی تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلقہ قانون کے مطابق دوران سفر وزیر کو ’پہلے درجے کا افسر‘ تصور کیا جائے گا۔ قانون کے مطابق کوئی بھی وزیر جہاز میں ’عوامی مفاد‘ میں ضروری ہونے کی صورت میں سفر کرنے کا مجاز ہوگا۔ ہوائی جہاز میں اندرون ملک سفر کے دوران وزیر اپنے اہل خانہ کے ایک فرد اور ایک ملازم کو سرکاری خرچ پر اکانومی کلاس جبکہ بیرون ملک سفر کی صورت میں بزنس کلاس میں سفر کر سکتے ہیں۔ وزیر مفاد عامہ کی صورت میں ہیلی کاپٹر یا چھوٹا جہاز بھی حکومتی خرچ پر استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ فضائی سفر میں ہر وزیر ایک سو پونڈ وزن تک کا سامان مفت رکھ سکتے ہیں۔ فضائی سفر کے دوران کسی وزیر کی موت واقع ہونے کی صورت میں ان کے اہل خانہ کو تین لاکھ روپے ملتے ہیں۔
ریل گاڑی میں سفر کی صورت میں وزراء کو سرکاری خرچے پر ریل کا خصوصی ڈبہ مہیا کیا جاتا ہے۔ ہر وزیر کے چار اہل خانہ کو مفت سفری سہولت مہیا کی جاتی ہے۔ وزیر کے عام بوگی میں سفر کی صورت میں دو ملازمین جبکہ سیلون میں سفر کے دوران چار ملازمین کو بھی مفت سفری سہولت حاصل ہوتی ہے۔ قانون کے مطابق ریل یا کشتی وغیر میں سفر کے دوران ہر چوبیس گھنٹے کے لیے ہر وزیر پچاس روپے جبکہ اس سے کم مدت کے سفر میں پچیس روپے خصوصی الاؤنس حاصل کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق صحت یا نجی مصروفیات کی صورت میں کسی وزیر کو پوری مدت کے دوران چھٹی کی منظوری وزیراعظم دیتے ہیں جوکہ تین ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ ہر وزیر اپنے ذاتی سٹاف کے طور پر ایک پرائیویٹ سیکریٹری، ایک پرسنل اسسٹنٹ، ایک سٹینو گرافر، ایک قاصد اور ایک نائب قاصد رکھنے کا مجاز ہے۔ قانون کے مطابق ہر وزیر کو اہل خانہ کے ہمراہ اپنے ہیڈ کوارٹر سے آبائی گھر تک سال میں ایک بار سرکاری خرچ پر فضائی سفر کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ وزراء کی تنخواہ، الائونسز اور دیگر سہولیات کے قانون میں ترمیمات رواں سال مارچ میں کی گئی تھیں۔ وزراء کی تنخواہ اور الائونسز میں اضافے کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے مشروط کردیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||