BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 March, 2006, 17:55 GMT 22:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابینہ میں توسیع کے لیے مشاورت

پاکستانی کابینہ
کارکردگی کی بنیاد پر وزراء کے محکمے بھی تبدیل کیے جائیں گے: شوکت عزیز
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے بتایا ہے کہ وہ اپنی کابینہ میں توسیع اور تبدیلی کے بارے میں حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں سے مشاورت کر رہے ہیں اور آئندہ دو ہفتوں میں اس کا اعلان ہوگا۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز وزیراعظم ہاوس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے مختلف سوالات کے جواب میں کہی۔

دریں اثناء جمعہ کی شام حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں وزیراعظم شوکت عزیز کی کابینہ کے تین وزیروں کو سبکدوش کردیا گیا ہے۔ کابینہ ڈویژن سے یہ نوٹیفکیشن جاری تو سترہ مارچ کو کیا ہے لیکن اس کا اطلاق گیارہ مارچ سے ہوگا۔

تین وزارء میں سے کھیل اور ثقافت کے امور کے وفاقی وزیر محمد اجمل خان، نجکاری کے وفاقی وزیر عبدالحفیظ شیخ اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد وسیم شامل ہیں۔

تینوں وزرا کا تعلق حکمران مسلم لیگ سے ہے اور وہ پہلے سینیٹرز تھے لیکن قرعہ اندازی کے ذریعے ان کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ دوبارہ منتخب نہیں ہوپائے۔

شوکت عزیز نے بتایا کہ سنیٹ کے نصف یعنی پچاس اراکین کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد کابینہ میں توسیع اور ردو بدل ضروری ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق کچھ وزراء کی کارکردگی کی بنا پر ان کے محکمے تبدیل کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ حکومتی اتحاد کے فریقین مسلم لیگ، متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان پیپلز پارٹی ( شیرپاؤ) اور فاٹا کے آزاد اراکین کی کوشش ہے کہ انہیں زیادہ نمائندگی ملے۔ خود حکمران مسلم لیگ میں وزارتیں نہ ملنے کی وجہ سے فارورڈ بلاک بھی بنا تھا۔

ملک کے سابق صدر فاروق لغاری اور سابق نگران وزیر اعظم غلام مصطفیٰ جتوئی جنہوں نے اپنی جماعتیں مسلم لیگ میں ضم کی تھیں کے علاوہ پیر پگاڑہ پہلے ہی اپنے حامیوں کو زیادہ اور من پسند وزارتیں نہ ملنے کی وجہ ناراضگی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

وزیراعظم کی پریس کانفرنس کا بنیادی مقصد تو پانچ ارب روپوں کی مالیت سے قائم کردہ ’خوشحال پاکستان فنڈ، کے قیام کا اعلان کرنا تھا لیکن ان سے مختلف معاملات کے بارے میں سوالات ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ اس نئے فنڈ کا بنیادی مقصد کم ترقی یافتہ علاقوں کے لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں مدد دینے اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔

ان کے مطابق مقامی حکومتیں اس فنڈ کے استعمال کے بارے میں پسماندہ علاقوں کی نشاندہی کریں گی اور وہاں رقوم استعمال کی جاسکیں گی۔

اسی بارے میں
سندھ حکومت میں اختلافات
16 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد