سینٹ قرعہ اندازی: کس نے کیا کھویا، کیا پایا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ سے تین سال کی مدت مکمل کرنے پر قرعہ اندازی کے ذریعے ریٹائر کیےجانے والے سینیٹرز میں متحدہ حزب اختلاف کی نسبت حکومتی اتحاد کے اراکین زیادہ ریٹائر ہوئے ہیں۔ حکومتی اتحاد کے چھبیس جبکہ متحدہ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والے چوبیس سینیٹرز کے نام ریٹائر ہونے والوں میں نکلے ہیں۔ جماعتی اعتبار سے بھی سب سے زیادہ حکمران مسلم لیگ کے یعنی اکیس سینیٹرز کی قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور انہیں چھ سالہ مدت نہیں مل پائی۔ جبکہ ان کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے چار اور بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی) کے ایک سینیٹر بھی قرعہ اندازی سے متاثر ہوئے۔ سب سے زیادہ خوش قسمت محمود خان اچکزئی کی پارٹی رہی جس کے دونوں سینیٹرز رضا محمد رضا اور ایاز احمد جوگیزئی کا نام چھ برس کی مدت والے سینیٹرز میں نکلا ہے۔ حزب اختلاف میں سب سے زیادہ متاثر مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہوا، جس کے بارہ سینیٹرز کا نام تین سالہ مدت پر ریٹائر ہونے والوں میں نکلے۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے سات، مسلم لیگ نواز، بلوچستان نیشنل موومینٹ، عوامی نیشنل پارٹی، جمہوری وطن پارٹی کے ایک ایک سینیٹر کی قسمت نے قرعہ اندازی میں ساتھ نہیں دیا۔ ایک آزاد سینیٹر اعظم خان درانی جو حزب مخالف کے ساتھ تھے بھی چھ سالہ مدت پوری نہیں کر پائیں گے۔ مسلم لیگ کے پنجاب سے منتحب ہونے والے آٹھ سینیٹرز جاوید اشرف قاضی، گلشن سعید، محمد علی درانی، نعیم حسین چٹھہ، نگہت آغا، ایس ایم ظفر، شہزاد وسیم اور طارق عظیم تین سال مدت کے بعد ریٹائر ہوجائیں گے۔ حکمران جماعت کے صوبہ سرحد سے دو اراکین سینیٹ ممتاز بی بی اورگلزار احمد خان جبکہ صوبہ سندھ سے عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق تھہیم ( پگاڑہ لیگ) اور مسز تنویر خالد کو جانا ہوگا۔ بلوچستان سے مسلم لیگی سینیٹرز میں سے ایاز مندوخیل، محمد اکرم، روشن خورشید باروچہ، سعید احمد ہاشمی اور شیرین نور تین سالہ مدت کے بعد ریٹائر ہونے والوں میں شامل ہیں۔ اسلام آباد سے حکمران لیگ کے وسیم سجاد جوکہ قائد ایوان ہیں وہ تین سال مکمل ہونے پر جائیں گے جبکہ مشاہد حسین اور بیگم طاہرہ لطیف اپنی چھ سالہ مدت مکمل کریں گے۔ فاٹا سے حکومت کے دو حامیوں محمد اجمل خان اور طاہر اقبال کو جانا ہوگا۔ حکومتی اتحادی جماعت متحدہ قوی موومینٹ کی نمائندگی صرف سندھ صوبے سے ہے جہاں سے ان کے چار سینیٹرز عابدہ سیف، احمد علی، نگہت مرزا اور پروفیسر محمد سعد متاثر ہوئے۔ جبکہ ایک اور حکومتی اتحاد کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی ( عوامی) کے مہم خان بلوچ کی مدت تین سال بعد مکمل ہوگی۔ پیپلز پارٹی شیر پاؤ کی واحد سینیٹر انیسہ زیب طاہر خیلی چھ سالہ مدت مکمل کریں گی۔ متحدہ مجلس عمل کے بارہ سینیٹرز تین سالہ مدت بعد چلے جائیں گے جن میں صوبہ سرحد سے پروفیسر خورشید، مولانا گل نصیب، ہدایت اللہ شاہ، قاری محمد عبداللہ، پروفیسر محمد ابراہیم، مراد علی شاہ کو جانا ہوگا۔ بلوچستان سے عزیز اللہ ستکزئی ، اسماعیل بلیدی اور رحمت اللہ کاکڑ، فاٹا سے مجلس عمل کے حامی متین شاہ اور سید سجاد حسین اور اسلام آباد سے پروفیسر غفور احمد تین سالہ مدت پر ریٹائر ہوں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سات سینیٹرز کی قسمت نے قرعہ اندازی میں ان کا ساتھ نہیں دیا۔ جس میں صوبہ سندھ سے چار سینیٹر رضا ربانی، صفدر علی عباسی، عبدالطیف انصاری اور عبداللہ ریاڑ، پنجاب سے محمد اکبر خواجہ اور سجاد بخاری جبکہ صوبہ سرحد سے فرحت اللہ بابر تین سالہ مدت پر ریٹائر ہوں گے۔ مسلم لیگ نواز کے پنجاب سے اسحاق ڈار تین سالہ مدت پر جبکہ سعدیہ عباسی اور صوبہ سرحد سے مہتاب احمد خان اپنی چھ سالہ مدت مکمل کریں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خوش قسمت رہے لیکن الیاس احمد بلور کا نام تین سال مدت مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہونے والوں میں نکلا۔ مارچ کی ابتدا میں ہونے والے پچاس سینیٹرز کے انتخاب کے موقع پر دیکھنا یہ ہوگا کہ متعلقہ جماعتیں مدت مکمل کرنے والے افراد کو ہی اپنا امیدوار بناتی ہیں یاکہ نئے چہرے نامزد کریں گی۔ سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ اگر حزب اختلاف نے ایک دوسرے سے تعاون نہیں کیا تو حکومت کے حامی امیدواروں کا پلڑا بھاری ہوگا۔ گزشتہ سینیٹ کے انتخاب کے موقع پر صوبہ سرحد سے تین سینیٹرز گلزار احمد خان، ان کے بیٹے وقار احمد خان اور اعظم خان سواتی آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے تھے اور الزامات لگے تھے کہ وہ ’چمک‘ کے زور پر جیتے تھے۔ صوبہ سندھ سے امین دادا بھائی آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئے تھے لیکن اخباری اطلاعات کے مطابق وہ ایم کیو ایم کی پس پردہ حمایت سے منتخب ہوئے تھے۔ جبکہ ’فیڈیکس کوریئر سروس‘ کے مالک محمد اکرم کا تعلق تو کراچی سے ہے لیکن وہ سینیٹر بلوچستان سے حکمران لیگ کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے اور ان کے بارے میں بھی خبریں شائع ہوئی تھیں کہ وہ بھی دولت کے زور پر منتخب ہوئے تھے۔ امیر ترین سینیٹرز سمجھے جانے والے اعظم خان سواتی اور گلزار احمد خان اگر کسی جماعت کی حمایت کے بغیر انتخاب لڑتے ہیں تو ایک بار پھر ’چمک‘ کا چرچہ ہی سننے کو ملے گا۔ جبکہ محمد اکرم کو اس بار جہاں ’پارٹی فنڈ‘ میں پیسے زیادہ دینے ہوں گے وہاں اور بھی سخت محنت کرنی پڑے گی۔ آئندہ انتخابات کے بعد سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ بھی شاید اتحاد برائے بحالی جمہوریت سے چھن جائے اور قومی اسمبلی کی طرح ایوان بالا میں بھی یہ عہدہ متحدہ مجلس عمل کو ملے۔ سات کے قریب وفاقی اور مملکتی وزراء جو کہ سینیٹر تھے اور تین سالہ مدت پر ریٹائر ہوں گے۔ اس کے بعد حکومت کو کابینہ میں ردو بدل میں بھی آسانی ہوگی۔ حکومت سے کے کئی ناخوش اراکین ایک بار پھر وزارت کی بھاگ دوڑ میں لگ جائیں گے۔ | اسی بارے میں ایم ایم اے پھر جیت گئی19 April, 2005 | پاکستان ’پارلیمان میں قانون سازی کم ہوئی‘26 December, 2005 | پاکستان متحدہ مجلس عمل کا امیدوار کامیاب18 April, 2005 | پاکستان سینٹ کا الیکشن نہیں لڑیں گے17 April, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||