’پارلیمان میں قانون سازی کم ہوئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹرشیر افگن خان نیازی نے تسلیم کیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں منتخب ہونے والے پارلیمان کی قانون سازی کے اعتبار سے سابقہ دو پارلیمان کی نسبت کارکردگی کم رہی ہے۔ ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیر کے روز وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر محمد اکرم کے پوچھے گئے سوال کے پیش کردہ تحریری جواب میں وزیر نے بتایا کہ اب تک موجودہ پارلیمان سے مختلف موضوعات پر قانون سازی کے لیے انتیس بل منظور کیے گئے ہیں۔ شیر افگن نیازی نے اپنے جواب میں مزید کہا ہے کہ سترہ فروری انیس سو ستانوے سے بارہ اکتوبر انیس ننانوے تک ( جب وزیراعظم نواز شریف تھے) قائم رہنے والے پارلیمان نے 54 بل منظور کیے تھے۔ جبکہ وزیر کے مطابق ستائیس اکتوبر انیس سو ترانوے سے پانچ نومبر انیس سو چھیانوے تک قائم پارلیمان ( جب بینظیر بھٹو وزیراعظم تھیں) چوالیس بل منظور کیے گئے تھے۔ وقفہ سوالات کے دوران حکومتی سینیٹر دلاور عباس نے ایوان کو مطلع کیا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے زلزلے سے متاثرہ پانچ سو بچوں کی کفالت کا ذمہ اٹھایا ہے۔ ان بچوں کی دیکھ بھال، تعلیم، صحت اور دیگر سہولتوں کے لیے وہ رقم فراہم کریں گے۔ جبکہ ان کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ٹرسٹ قائم کیا جارہا ہے۔ سینیٹ کو ایک سوال پر مواصلات کے وزیر محمد شمیم صدیقی نے بتایا کہ سن دوہزار تین اور دو ہزار چار کے دوران دو برسوں میں موٹر وے پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر عائد کردہ جرمانوں سے ایک ارب دو کروڑ ستر لاکھ چورانوے ہزار تین سو چوہتر روپے آمدن ہوئی۔ | اسی بارے میں وزرا کی غیرحاضری پر سینیٹرز برہم24 August, 2004 | پاکستان سینٹ اور قومی اسمبلی میں احتجاج13 September, 2005 | پاکستان اب افسروں کو جواب دینا ہوگا29 November, 2004 | پاکستان چوہدری شجاعت کے خلاف ’بغاوت‘11 November, 2005 | پاکستان وزراء اور چوہوں میں اضافہ13 September, 2004 | پاکستان بحالی کمیٹی میں شمولیت سے انکار20 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||