وزرا کی غیرحاضری پر سینیٹرز برہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی پارلیمینٹ کے اجلاسوں میں آج کل وزراء کی غیر موجودگی اور سٹینڈنگ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت نہ کرنے کے معاملات پر حکومت اور حزب اختلاف کے حامی اراکین پارلیمینٹ احتجاج کر رہے ہیں۔ حزب اختلاف جہاں حکومت پر تنقید کررہی ہے وہاں احتجاجی طور پر علامتی واک آؤٹ بھی کر رہی ہے۔ منگل کی صبح ایوان بالا سینیٹ میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب حکومت کے حامی سینیٹر ایاز خان مندوخیل جو کہ ایوان کی محکمہ داخلہ کے متعلق سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، شکایت کی کہ وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کمیٹی کے اجلاسوں میں مسلسل شرکت نہیں کر رہے۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ جب وزیر داخلہ کو کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے کہا گیا تو وزیر نے انہیں کہا کہ وہ کمیٹی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ سینیٹر مندوخیل نے یہ بھی کہا کہ نہ صرف وزیر داخلہ نہیں آتے بلکہ انہوں نے وزارت کے افسران کو بھی منع کر رکھا ہے اور متعلقہ کمیٹی کے چار اجلاس ہوچکے ہیں جن میں کوئی نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ انہیں ایسی چیئرمن شپ نہیں چاہیے جس کا احترام نہ ہو۔ ان کی حمایت ایک اور حکومتی سینیٹر محمد اکرم نے بھی کی اور انہوں نے وزیر صنعت و پیداوار لیاقت جتوئی کی کمیٹی کے اجلاس میں عدم شرکت کی شکایت کی۔ حکومتی ارکین سینیٹ کی شکایات پر حزب اختلاف کے سینیٹرز رضا ربانی اور صفدر عباسی سمیت کئی اراکین سینیٹ کھڑے ہوگئے اور وزراء کی عدم دلچسپی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ نے ایوان کی توہین کی ہے اور انہیں طلب کرکے ان سے وضاحت طلب کی جائے۔ چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے وزراء کی عدم دلچسپی اور وزیر داخلہ کے جواب کا سخت نوٹس لیا اور ایوان کو یقین دلایا کہ وہ وزیراعظم سے یہ معاملہ اٹھائیں گے اور آئندہ وزراء کی اجلاسوں میں شرکت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں گے۔ چیئرمین کی یقین دہانی پر حزب اختلاف نے اکتفا نہیں کیا اور کہا کہ آپ پہلے بھی ایسی یقین دہانیاں کراچکے ہیں اور وزراء بات نہیں سنتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا حکومتی رکن کی زبانی شکایت کو تحریک استحقاق مانتے ہوئے متعلقہ کمیٹی کو یہ معاملہ بھیجا جائے۔ جب حزب اختلاف نے تمام وزراء کو نشانہ بنایا تو بعض حکومتی سینیٹرز نے کہا کہ شکایت چند وزراء کے خلاف ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ پوری کابینہ ایسے کر رہی ہے، انہوں نے بعض وزراء کی تعریف بھی کی۔ لیکن حکومتی سینیٹرز کی شکایات کی بنیاد پر حزب اختلاف کے سینیٹرز نے پوری کابینہ کو ہی نشانہ بنا کر تنقید کا سلسلہ با آواز بلند جاری رکھا۔ حزب اختلاف کے احتجاج میں شدت کو بھانپتے ہوئے قائد ایوان وسیم سجاد نے مداخلت کی اور معاملے کو ختم کرنے کے لیے کہا کہ تمام اراکین کو چیئرمین کا احترام کرنا چاہیے اور ان کی یقین دہانی کافی ہے اور سب کو انتظار کرنا چاہیے۔ قائد ایوان کی اس بات کے باوجود بھی جب حکومتی اور حزب اختلاف کے سینیٹرز نے احتجاج جاری رکھا تو وسیم سجاد احتجاج کرنے والے حکومتی سینیٹرز کے پاس گئے اور انہیں چیئرمین کی بات ماننے کو کہا۔ حزب اختلاف کے اراکین کہتے رہے کہ وزراء اس مقدس ایوان کی توہین کر رہے ہیں جو انتہائی افسوسناک بات ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وہ وزیراعظم سے بات کریں گے اور یوان کو مطلع کریں گے۔ یاد رہے کہ وزراء کی عدم موجودگی کا معاملہ پیر کی شام قومی اسمبلی میں بھی حزب اختلاف نے اٹھایا تھا اور اس کے خلاف احتجاجی طور پر علامتی واک آئوٹ بھی کیا تھا۔ پاکستان کے دونوں ایوانوں میں وزراء کی اجلاسوں میں عدم شرکت و دلچسپی کے معاملات اس سے پہلے بھی اٹھائے گئے تھے اور چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی نے وزراء کو کئی بار سختی سے موجود رہنے کے لیے متنبہ بھی کیا تھا۔ یاد رہے کہ وزیراعظم کے عہدے سے چودھری شجاعت حسین ایک دو دنوں میں مستعفی ہو رہے ہیں اور شوکت عزیز نئے وزیراعظم بن رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں موجودہ کابینہ میں شامل بعض وزراء کو فارغ کرنے اور بعض کے محکمے تبدیل کرنے کی خبریں بھی مقامی اخبارات میں تواتر سے شائع ہورہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||