’بےنظیر، نواز میٹنگ نیا ڈرامہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نئے وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے وزارت سنبھالنے کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں حزب اختلاف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور چودہ مئی کو لندن میں ملک کے دو سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان جمہوریت کی بحالی اور فوج کے اقتدار کی مخالفت میں ہونے والے تحریری معاہدے ’میثاق جمہوریت‘ کو حزب اختلاف کے رہنماؤں کا ایک نیا ڈرامہ قرار دیا ہے۔ پاکستان میں دونوں سابق وزرائے اعظم کے درمیان مفاہمت کو سیاسی حلقوں میں گہری دلچسپی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم جمعرات کو حکومتی وزیر کی طرف سے صرف اس بارے میں پریس کانفرنس کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومتی حلقوں میں بھی اس مفاہمت کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ دونوں رہنما پاکستان کی دو بڑی جماعتوں کے سربراہ بھی ہیں اور اگلے برس ہونے والے عام انتخابات کے اہم کردار بھی۔ وزیر اطلاعات سے جب پوچھا گیا کہ ابھی مفاہمت کی یادواشت پر دستخط بھی نہیں ہوئے اور حکومت نے اس کے خلاف ایک لمبا چوڑا تحریری بیان جاری کیا ہے تو کیا حکومت اس مفاہمت سے خوفزدہ ہے تو اس پر وزیر اطلاعات نے اس بات پر رد عمل سے گریز کیا۔ وزیر اطلاعات نے اس موقع پر چودہ سوالات پر مبنی ایک سوالنامہ بھی جاری کیا جس میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ماضی کے حوالے سے ان کی مخالفت اور ان کی مبینہ بد عنوانیوں کے بارے میں جواب طلب کئے گئے ہیں۔ محمد علی درانی سے جب حکومتی حلقوں میں بد عنوانیوں اور خصوصا چینی کے بحران میں مبینہ طور پر اعلی حکومتی وزرا کے کردار کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں قانون کے مطابق فیصلہ ہو گا۔ انہوں نے حزب اختلاف کی جماعتوں اور حکومت کے درمیان ڈیل کی خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کوئی خفیہ ڈیل نہیں کرے گی اور جو کچھ ہوگا وہ عوام کے سامنے ہو گا۔ | اسی بارے میں ’یہ بینظیر کی کردار کشی کی مہم ہے‘07 April, 2006 | پاکستان ’نواز شریف، بینظیر واپس جائیں گے‘15 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||