نواز، بےنظیر ملاقات آج ہوگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ نواز گروپ کے قائد میاں نواز شریف کے درمیان لندن میں پیر کو ملاقات ہو رہی ہے جس میں پاکستان کی سیاسی صورتِ حال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ دونوں سابق وزرائے اعظم جو جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں پہلے بھی ایک بار جدہ میں ملاقات کر چکے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی یہ دوسری ملاقات ہوگی جس کے لیئے پچھلے کچھ عرصے سے ایلچی مسلسل کوشش میں تھے۔ میاں نواز شریف کے بھائی میاں شہباز شریف نے اس ملاقات کے تناظر میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان بات چیت در اصل جدہ ملاقات کا ایک تسلسل ہے۔ میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ملاقات کے بعد میاں شہباز شریف بے نظیر سے ملنے کے لیئے دوبئی گئے تھے جس میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ دونوں سابق وزرائے اعظم کے مابین ایک اور ملاقات ہونی چاہیئے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پیر کی ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتِ حال پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنما آئندہ انتخابات، پاکستان میں جمہوریت کے قیام، بقول ان کے جھوٹی جمہوریت کے خاتمے اور قانون اور آئین کی بالا دستی کے لیئے مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کریں گے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دنوں رہنماؤں میں سے کوئی بھی پاکستان واپس جارہا ہے تو میاں شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ہی وطن جانا چاہتے ہیں لیکن انہیں روکا جا رہا ہے۔ ان نے دو ہزار چار میں اپنے وطن واپسی کے سفر کے حوالہ دیا اور کہا کہ انہیں ’ظالمانہ انداز سے‘ پاکستان سے واپس بھیج دیا گیا تھا۔‘ پاکستان مسلم لیگ کے ترجمان پرویز رشید کے مطابق ملاقات میاں نواز شریف کی رہائش گاہ پر ہوگی۔ پی پی پی کے پارلیمانی صدر مخدوم امین فہیم جو ان دنوں لندن میں ہیں بینظیر کی مصروفیات کے انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ درین اثناء پیپلز پارٹی کے ترجمان نے پاکستانی فوجی حکومت کی جانب سے برطانیہ میں بینظیر کی سرگرمیوں کی ٹوہ لینے کے لیے لندن میں مبینہ جال بچھانے کی مذمت کی ہے۔ ترجمان کا کہنا کہ مشرف حکومت کے لوگوں نے ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر بے نظیر کی آمد کی تصاویر بنائیں اور ان کا تعاقب بھی کیا۔ ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فوجی حکومت اس امکان سے ہی پریشان ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں فوجی آمریت کے خلاف متحد ہو رہی ہیں۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو سنیچر کو صبح امریکہ جاتے ہوئے مختصر قیام کے لیے لندن پہنچیں جہاں وہ اپنی پارٹی کے کچھ امور بھی نمٹائیں گی۔ بے نظیر بھٹو میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد پارٹی رہنماؤں سے بات چیت کریں گی اور لندن کا مختصر دورہ مکمل کر کے اپنے شوہر سینیٹر آصف زرداری سے ملنے کے لیے امریکہ روانہ ہوں گی۔ | اسی بارے میں ’کلنٹن نے کہا پھانسی نہ دیجائے‘26 February, 2006 | پاکستان مشرف نے ہمیں لڑانا چاہا: نواز 13 February, 2006 | پاکستان پیپلز پارٹی انتخابی اتحاد نہیں بنائے گی10 February, 2005 | پاکستان چارٹرآف ڈیموکریسی پراتفاق10 February, 2005 | پاکستان نواز بینظیرملاقات چند روز میں08 February, 2005 | پاکستان نواز ’ترلے‘ کر کے باہر گئے: مشرف11 January, 2005 | پاکستان زرداری دبئی چلے گئے30 December, 2004 | پاکستان بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||