سیاسی اتحادوں میں نئی صف بندی کے اشارے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اپوزیشن کے سیاسی اتحادوں اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل میں شامل سیاسی پارٹیوں کے بعض قائدین نئے سرے سے صف بندی پر غور کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں دونوں بڑے سیاسی اتحادوں میں ٹوٹ پھوٹ ہو سکتی ہے اور نئے الائنس ابھر کر سامنے آسکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین موجودہ اتحادوں میں اختلافات کی باتیں عرصہ دراز سے کر رہے ہیں لیکن ان میں شدت اس وقت آئی جب جمعیت علمائے اسلام کےقائدین نے قاضی حسین احمد کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے مستعفی ہونے سے انکار کردیا اور دوسری طرف عام انتخابات قریب دیکھ کر پیپلز پارٹی نے اپنی سرگرمیوں کا محور مشرف مخالف تحریک سے ہٹا کر کارنر میٹنگز اور چھوٹے جلسے شروع کر دئیے۔ ان جلسوں میں پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے تواتر سے کہنا شروع کیا کہ وہ لاہور اور پنجاب کے شہری علاقوں سے مکمل فتح حاصل کریں گے۔ پیپلز پارٹی لاہور کے صدر عزیز الرحمان چن نے کہا کہ ان کا مسلم لیگ نواز سے کوئی انتخابی اتحاد نہیں ہے اور ہر سیاسی پارٹی کا طرح ان کا حق ہے کہ وہ اپنی جماعت کی جیت کے لیے کوشش کریں اور وہ بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ پارٹی ہائی کمان کے تابع ہیں جو مسلم لیگ سے انتخابی اتحاد یا اس کی مخالفت کا فیصلہ کرے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ لاہور کی تمام قومی اور صوبائی نشستوں کے لیے امیدوار کھڑے کرنا چاہیں گے اور اس کے لیے تیاری بھی کر رہے ہیں۔ لیکن بات صرف لاہور تک ہی محدود نہیں، پی پی رہنما پنجاب کے تمام شہروں میں ایسا ہی کر رہے ہیں۔ پنجاب، خاص طور پر اس کے وسطی اور شمالی شہروں اور کچھ جنوبی حصے میں مسلم لیگ نواز کا بھاری ووٹ بنک ہے۔ مسلم لیگ کے چند مقامی قائدین نے ان بیانات کو براہ راست مسلم لیگ نواز پر حملہ گردانا اور مسلم لیگ کے نائب صدر خواجہ سعد رفیق نے دو روز پہلے ہونے والے ایک پارٹی اجلاس میں کھل کر پیپلز پارٹی کی مخالفت کی اور کہا کہ مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف ہم خیال مخالفین کا ایک نیا اتحاد تشکیل دینے کا سوچ رہے ہیں۔
مسلم لیگ نواز کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ ایسی سوچ موجود ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسے کسی فیصلے سے پہلے مسلم لیگ نواز اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اے پی سی ایک طرح کی اتمام حجت ہوگی کیونکہ اس میں ہر سیاسی جماعت کا اصل چہرہ سب کے سامنے آجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس آل پارٹیز کانفرنس کے بعد امکان ہے کہ اپوزیشن کی نئی صف بندی ہوجائے کیونکہ اس میں واضح ہوجائے گا کہ کون فوجی آمریت کا کتنا مخالف ہے اور کون درپردہ اس کا ساتھ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی چار سے چھ ہفتوں کےدوران بلائی جائے گی اور نیا اتحاد اگر بننا ہوا تو مزید ایک دوہفتے کے اندر بن جائے گا۔ تاہم مسلم لیگ کے ترجمان نے کہا کہ ان کے قائد میاں نواز شریف کی اولین ترجیح ہے کہ اپوزیشن کا گرینڈ الائنس بن سکے۔ ادھر مجلس عمل کی بڑی سیاسی جماعت اسلامی کے بعض رہنما اور کارکن حقوق نسواں ایکٹ کے خلاف استعفوں کے فیصلے سے منحرف ہونے پر خاصے دلبرداشتہ ہیں اور اس کی وجہ جمعیت علمائے اسلام کے قائدین کی حکومت نوازی کو سمجھتے ہیں دوسری طرف جمیعت علمائے اسلام میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ اتحاد میں عددی طور پر بڑی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود جماعت اسلامی اپنی من مانی کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل منور حسن نے کہا کہ نئی نظریاتی صف بندی نوشتہ دیوار ہے لیکن وہ مرحلہ ابھی دور ہے ابھی پہلےمرحلے پر تو اپوزیشن ایک مشرف مخالف گرینڈ الائنس کی جانب بڑھ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی سے ڈیل کے حوالے سے بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک تو ڈیل کی باتیں جھوٹ ثابت ہوتی رہی ہیں تاہم حقوق نسواں ایکٹ کے حوالےسے پیپلز پارٹی کا رویہ مختلف تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی وزیر اب توہین رسالت کے قانون کو تبدیل کرنے کے اشارے دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو خود حکومتی پارٹیوں اور پیپلز پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی صف بندی جو بھی ہوگی اس میں مسلم لیگ نواز اور جماعت اسلامی کے ساتھ مسلم لیگ ق کے ان چالیس رکن اسمبلی اور گیارہ سینٹروں کے علاوہ جنہوں نے حقوق نسواں بل کے حق میں ووٹ نہیں دیا، بڑی تعداد میں حکمران پارٹی کے قائدین اور رہنما کھڑے ہونگے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ایک انتخابی ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں پلیٹ فارم سے حصہ لیتی رہی ہے جبکہ جماعت کا اسلامی آئی جی آئی کی صورت میں مسلم لیگ کے ساتھ انتخابی اتحاد تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن ایک بار پھر پرانے اتحادوں کی طرف لوٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ | اسی بارے میں حسبہ بل، حکومت مخمصے میں14 December, 2006 | پاکستان ’وردی میں ملبوس جمہوریت ہے‘10 December, 2006 | پاکستان حدود قانون: ملک گیرہڑتال کی کال10 December, 2006 | پاکستان فیصل آباد ریلی میں گرفتاریاں10 December, 2006 | پاکستان چودہریوں کا شہر، مجلس کا کارواں 30 November, 2006 | پاکستان ایم ایم اے کا امتحان28 November, 2006 | پاکستان ’مشرف حکومت کوہٹانا ضروری ہے‘19 November, 2006 | پاکستان مشرف پی پی پی مفاہمت کے اشارے؟ 18 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||