BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 November, 2006, 00:15 GMT 05:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چودہریوں کا شہر، مجلس کا کارواں

کراچی میں بھی حقوقِ نسواں بل کے خلاف ایم ایم نے مظاہرہ کیا تھا
پاکستان کے شہر لاہور سے حقوق نسواں بل کے خلاف مجلس عمل کاایک احتجاجی کارواں جمعرات کی صبح گجرات کے لیے روانہ ہورہا ہے جہاں شام کو ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا جائے گا۔

گجرات حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین اور وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کا آبائی شہر ہے۔

جماعت اسلامی کے ہیڈکواٹر منصورہ کے ارد گرد پولیس تعینات ہے جہاں سےچند گھنٹے کے بعد وہ جلوس گجرات کے لیے روانہ ہوگا جس کا اعلان مجلس عمل کے قائدین نے کر رکھا ہے۔

احتجاجی قافلے کی قیادت امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد لیاقت بلوچ اور مجلس عمل کےدیگر رہنما کر رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے جس کے تحت جلسے جلوس نہیں نکالے جاسکتے۔

لاہور پولیس کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس نے قاضی حسین احمد سمیت ساٹھ افراد کی نظر بندی کے احکامات حاصل کرنےکے لیے ایک تحریری درخواست صوبائی محکمہ داخلہ کو بھجواد ی ہے۔

جماعت اسلامی کے نائب امیر مولانا منور حسن سے بی بی سی نے پوچھا کہ اگرجلوس کو زبردستی روکا گیا تو وہ کیا کریں گے تو انہوں نے کہا کہ سینکڑوں گاڑیوں کے قافلے کو روکنا پولیس کے بس میں نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عوام ایک عرصے سے حکومت مخالف تحریک کا انتظار کر رہے تھے اور آج کا قافلہ اس کا آغاز ثابت ہوگا۔

مجلسِ عمل حقوقِ نسواں بل کے خلاف استعفے دینے یا نہ دینے کا فیصلہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں کرے گی

مجلس عمل کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ گجرات میں ایم ایم اے کے پوسٹر اور بینر زبردستی اتار دیئے گئے ہیں اوران کے قائدین و کارکنوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔

پارلیمان سے منظور ہونے والے حقوق نسواں بل کومجلس عمل نے غیر شرعی قرار دیا ہے اور اس کے خلاف قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔تاہم حتمی فیصلہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

منور حسن نے کہا کہ استعفوں کا فیصلہ ہوچکا ہے اوراجلاس میں صرف طریقہ کار طے کیا جائے گا اور دیگر معاملات پر غور کیا جائے گا جیسے بالفرض اگر حکومت قومی اسمبلی کا اجلاس ہی نہیں بلاتی تو پھر مستعفی ہونے کا کیا طریقہ ہوسکتا ہے۔؟

مجلس عمل کے اعلان کے مطابق اس کارواں کا کامونکی، گوجرانوالہ اور وزیرآباد سمیت راستے میں آٹھ مقامات پر استقبال کیاجائے گا جہاں رہنما مختصر خطاب کریں گے۔

حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا تھا کہ یہ بل اسلامی ہے اور اگر یہ غیر اسلامی ثابت ہوا تو وہ مستعفی ہوجائیں گے انہوں نے اپنا مشروط استعفی سپیکر کو بھی دیا تھا جو انہیں واپس کر دیا گیا تھا۔

مجلس عمل کے قائدین نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک کارواں لے جا کر ایسی دستاویز بھی چودھری شجاعت حسین کو دیں گے جس میں ملک کے جید علماء نے اپنے دستخطوں کے ساتھ حقوق نسواں بل کو غیر شرعی اور غیر اسلامی قرار دیا ہے۔

حکومت نے حقوق نسواں بل کے ذریعے حدود آرڈیننس سنہ انیس سو اناسی میں اہم ترامیم کی ہیں اور صدر مشرف کے دستخطوں کے بعد یہ بل قانون کا حصہ بن جائے گا۔

اسی بارے میں
ایم ایم اے کا امتحان
28 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد