ایم ایم اے کا امتحان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دینی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل اس وقت میں اپنے قیام کے بعد سے شاید سب سے بڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ اسے ایک اہم فیصلہ کرنا ہے جس پر اس کے انتخابی مستقبل کا انحصار ہوگا۔ اس وقت وہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں قومی اسمبلی سے مستعفی ہونا اس کے لیئے سیاسی طور پر مفید ہونے کے ساتھ ساتھ نقصان دے بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے تحفظِ حقوق نسواں بل کی پارلیمان سے منظوری کے بعد اس نے احتجاجاً قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اصولی فیصلہ اور اعلان تو کر دیا ہے لیکن کیا وہ ایسا عملی طور پر کر بھی پائے گی یا نہیں۔ خود ایم ایم اے اس بارے میں اختلافات کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ چھ دسمبر کو متوقع ہے۔ سخت گیر موقف والی جماعت اسلامی تو بظاہر اسمبلیوں کو خدا حافظ کہنے کے لیئے تیار بلکہ کب سے بے چین ہے تاہم دوسری بڑی جماعت جعمیت علمائے اسلام (ف) اس بارے میں بظاہر وہ جوش و جذبہ دکھانے سے قاصر ہے۔ ماضی میں دونوں اپنے اختلافات کم از کم عوامی نظروں سے دور رکھنے میں کامیاب رہے ہیں تاہم اس مرتبہ صورتحال بلکل مختلف ہے۔
کئی اعلانات اور وعدوں کے بعد اب ایم ایم اے کے لیئے استعفے دینا ضروری سا ہوگیا ہے۔ اگر وہ اس مرتبہ بھی اپنے اعلان سے پھرتی ہے تو اسے شدید سیاسی دھچکا لگے گا اور اگر وہ کرتی ہے تو بھی اس کے لیئے فوائد کوئی اتنے حوصلہ مند دکھائی نہیں دیتے۔ بعض مبصرین کے خیال میں حکومت نے بالآخر تحفظ حقوق نسواں بل منظور کروا کر ایم ایم اے کو ایک بڑے سیاسی چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی اس سال کے آغاز سے استعفے دے کر حکومت کے خلاف ایک احتجاجی تحریک شروع کرنے کی خواہش کا اظہار بارہا کر چکی ہے۔ وہ کبھی ستمبر اور کبھی اکتوبر کی تاریخیں بھی دیتی رہی ہے لیکن ایم ایم اے کے دیگر ساتھیوں نے اس پر کوئی زیادہ لب کشائی نہیں کی۔ جماعت اسلامی کی گرمجوشی اور اس کے مقابلے میں جمعیت کی نرمی کی ایک وجہ جے یو آئی کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہونا بھی ہے۔ جمعیت کے پاس قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ، سرحد میں صوبائی حکومت اور بلوچستان میں وزارتیں ہیں۔ اس کے لیئے یہ سب کچھ ترک کر دینا شاید اتنا آسان نہیں۔ وہ بھی اب چار برس تک حکومت میں رہنے اور کوئی تسلی بخش کارکردگی نہ دیکھانے کے بعد۔
ماضی میں بھی حکومت میں رہتے ہوئے اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے۔ وسائل کی کمی اور پہاڑ جیسے بڑے مسائل حکومتوں کی ناکامی کا سبب بنے ہیں۔ایسے میں عوامی ناراضگی اور نااُمیدی میں اضافہ یقینی ہے۔ کئی مبصرین کے خیال میں اپنی ناقص کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے جماعت اسلامی کافی عرصے سے کسی ’ایگزٹ سٹریٹجی‘ کے بارے میں نہ صرف سوچ رہی تھی بلکہ اس پر اس نے قدرے تاخیر سے عمل درآمد بھی شروع کر دیا ہے۔ اس کی حالیہ مثال جماعت اسلامی کے سینئر صوبائی وزیر سراج الحق اور باجوڑ سے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون رشید کے استعفے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے حافظ حسین احمد کا استعفی تاہم جماعت سے زیادہ ذاتی فیصلہ معلوم ہوتا ہے۔ باجوڑ کے رکن اسمبلی کا نہ صرف استعفی منظور کر لیا گیا بلکہ الیکشن کمیشن نے فوری طور پر دس جنوری کو ضمنی انتخاب کے شیڈول کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ دوسری جانب صاحبزادہ ہارون رشید کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ ان اقدامات سے شاید حکومت یہ عندیہ دینا چاہتی ہے کہ وہ ضمنی انتخاب کے انعقاد میں سنجیدہ ہے۔ جہاں تک بات اجتماعی استعفوں کی ہے تو ایسا کرنے کی صورت میں ایم ایم اے کو صرف ایک سیاسی فائدہ ہوسکتا ہے۔ وہ یہ کہ وہ آئندہ انتخابات میں سینہ ٹھوک کر عوام کے سامنے یہ دعوی کرسکتی ہے کہ اسمبلیاں یا سرکاری مراعات اس کا ہدف نہیں بلکہ وہ اصولوں کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔
لیکن ان استعفوں کے منفی اثرات کچھ زیادہ ہونے کا احتمال ہے۔ ایک تو حکومت اسے ایم ایم اے کے خلاف استعمال کرسکتی ہے کہ وہ مسائل منتخب ایوانوں کی بجائے گلی کوچوں میں حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ دوسرا حکومت کے علاوہ عوامی حلقوں میں بھی یہ تاثر قوی ہے کہ چار برسوں تک ایوانوں میں رہنے اور مراعات سے فائدہ اٹھانے کے بعد اب آخری پارلیمانی سال میں ہی استعفے کیوں۔ یہ قدم تو کافی پہلے بھی اٹھایا جا سکتا تھا۔ یہ شکایت آئندہ انتخابات میں ووٹ کیش کرتے وقت دینی جماعتوں کے اتحاد کے لیئے مشکل پیدا کر سکتی ہے۔ کئی لوگوں کے خیال میں اب مستعفی ہونے سے حکومت خصوصاً صدر جنرل پرویز مشرف کو کافی فائدہ ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ حکومت کہہ رہی ہے وہ قومی اسمبلی کی خالی نشستوں پر فورا ضمنی انتخابات کروانے کا اہتمام کرے گی۔ ایسی صورت میں وہ اپنے حامی لوگوں کو منتخب کروا کے صدر کو دوبارہ آئندہ پانچ برسوں کے لیئے باآسانی دوبارہ توسیع دے سکتی ہے۔ ایسے حالات میں ایم ایم کے کے استعفے حکومت کے لیئے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ مستعفی ہونے کے سیاسی جوئے میں ایم ایم اے کے لیئے ایک اور منفی پہلو اس کا اعلان ہے کہ وہ صرف قومی اسمبلی سے ہی علیحدہ ہوگی۔ عام لوگوں کے لیئے ایوان بالا اور صوبائی حکومتوں سے الگ نہ ہونے کی منطق ناقابل فہم ہے۔ اس قسم کا جزوی فیصلہ بھی ایم ایم اے کے خلاف جا سکتا ہے۔تحفظ حقوق نسواں بل کی منظوری میں ایوان بالا کا بھی وہی کردار رہا جوکہ قومی اسمبلی کا تھا۔ تین سو بیالیس ارکان کی قومی اسمبلی میں ایم ایم اے کے اراکین کی تعداد محض چھیاسٹھ ہے۔ اقلیت میں ہوتے ہوئے وہ کیسے اکثریت پر اپنی ’دھونس‘ جمانے کا حق رکھتی ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس دباؤ کے ذریعے ایم ایم اے اپنے اصولوں کی ہی نفی کر رہی ہے۔ اسے اپنے اس فیصلے کے دفاع میں کافی دقت پیش آسکتی ہے۔ ایم ایم اے کو اس قضیے میں حزب اختلاف کی دیگر سیاسی جماعتوں کی بھی کوئی واضح حمایت حاصل نہیں۔ پیپلز پارٹی تو پہلے ہی بل کی حمایت کرکے کے ان سے علیحدہ ہوچکی ہے جبکہ مسلم لیگ (نواز) ملے جلے اشارے دے رہی ہے۔
ایک طرف مسلم لیگ کے سیکٹری جنرل اقبال جھگڑا استعفوں کے مسئلے پر پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے کی بات کر رہے ہیں تو دوسری جانب راجہ ظفر الحق مشترکہ استعفوں کے امکان کو رد نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی مشترکہ حکمت عملی کی تیاری کے لیئے لندن میں دسمبر کے وسط میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔ صوبائی سطح پر بھی ایم ایم اے تضادات کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ جے یو آئی بلوچستان استعفوں میں دلچسپی نہیں رکھتی جبکہ صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی کارکردگی اتنی قابل رشک نہیں جس کی وجہ سے کل عام انتخابات منعقد ہونے کی صورت میں دینی اتحاد دوبارہ وہی اکثریت حاصل کرسکے جو اس نے 2002 کے انتخابات میں جیتی تھی۔ شاید جے یو آئی اسی لئیے حکومت میں اس وقت تک رہنا چاہتی ہے جب تک ممکن ہوسکے۔ حکومتیں بہت سے ترقیاتی منصوبے آخر انتخابی سال کے لیئے بھی چھوڑ دیتی ہیں۔ سرحد حکومت بھی اسی انتظار میں آخری اہم برس کھونا نہیں چاہتی۔ جماعت اسلامی کی اس حکومت میں اب عدم دلچسپی کا ایک اظہار کی شکل یہ بات ہے کہ اس نے سراج الحق کی جگہ نیا سینئر وزیر مقرر ہی نہیں کیا۔ تاہم مرکز میں جزوی استعفوں کا وہ اثر نہیں ہوگا جو شاید مکمل بائیکاٹ کی صورت میں حکومت پر پڑ سکتا ہے۔ متحدہ مجلس عمل میں آج کل استعفے دینے یا نہ دینے کے بارے میں بحث جاری ہوگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کی جمع تفریق کا حتمی جواب کیا آتا ہے۔ جو بھی نتحجہ سامنے آئے اس کا آئندہ عام انتخابات پر اثر ضرور پڑے گا۔ | اسی بارے میں ڈیڈ لائن 31 جولائی ورنہ عدم اعتماد02 July, 2006 | پاکستان ’میثاق جمہوریت امید کی کرن‘02 July, 2006 | پاکستان اے آر ڈی اور ایم ایم اے میں تعاون 12 June, 2006 | پاکستان پنجاب اسمبلی: الزامات و طعنے09 June, 2006 | پاکستان ایم ایم اے: اسمبلی کا بائیکاٹ29 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||