BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف پی پی پی مفاہمت کے اشارے؟

بے نظیر
پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان ان میں باضابطہ اظہار حدود قوانین میں ترمیم کی حمایت کی صورت میں سامنے آیا ہے
گزشتہ روز قوم سے اپنے خطاب میں صدر مشرف نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ملک میں ترقی پسند، روشن خیال اور اعتدال پسند سوچ رکھنے والی جماعتوں کو متحد ہونا چاہیے اور انتہا پسندوں کو بتا دینا چاہیے کہ ان کا زور ٹوٹ چکا ہے۔

بیشتر مبصرین ان کی اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کرتے رہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ صلح کا ارادہ کرچکے ہیں اور مستقبل میں ایسے اقدامات ضرور ہوں گے جس سے فریقین میں قربت پیدا ہوگی۔

صدر مشرف کے سات سالہ دور میں اپوزیشن میں رہنے والی پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ، انتہاپسندوں کا راستہ روکنے جیسے معاملات میں تو ہم خیالی پہلے ہی پائی جاتی تھی لیکن ان میں باضابطہ اظہار حدود قوانین میں ترمیم کی حمایت کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

حالانکہ مخدوم امین فہیم سمیت پیپلز پارٹی کے کئی اراکین یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کی جماعت کا پرانا موقف ہے کہ حدود قوانین منسوخ ہونے چاہیے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ترمیم ہر صورت ہونی چاہیے اور انہوں نے اپنے نظریات کے مطابق اس بل کی حمایت کی۔

ان کی یہ بات درست بھی ہے لیکن جس طرح بعض اراکین کی جانب سے بل کی مخالفت کے بعد انہیں اپنی جلاوطن رہنما بینظیر بھٹو کی جانب سے بل پاس کرانے کے لیے سختی سے ہدایات ملیں وہ ان سے بھی اچھی طرح باخبر ہیں۔

اسلام آباد کے سفارتی اور سیاسی حلقوں میں حدود بل کی منظوری ملک کے مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ کے لیے ایک پیمانہ بنا ہوا تھا۔ کہا جارہا تھا کہ اگر صدر مشرف کے حامیوں نے مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر اس بل کو پاس کیا تو اس کا مطلب ہوگا کہ مستقبل میں بھی ’ملا ملٹری‘ اتحاد برقرار رہے گا اور انتخابات کے نتائج بھی اس پس منظر میں آسکتے ہیں۔

جب صورتحال اس کے برعکس رہی تو ان حلقوں کی رائے ہے کہ حدود بل مستقبل میں صدر مشرف اور پیپلز پارٹی کی ورکنگ ریلیشن شپ کا سنگ بنیاد ثابت ہوگا۔

حدود بل منظور کیے جانے کے اگلے روز صوبہ سندھ کے شہر شکارپور میں ایک صوبائی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخابات کی پولنگ ہوئی اور پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار جیت گئے اور حکمران مسلم لیگ شکست کھاگئی۔

اس نشست پر پہلے بھی پیپلز پارٹی کا امیدوار آغا طارق جیتے تھے اور ان کی وفات کے بعد ان کا بیٹا ضمنی انتخاب جیتا۔ جبکہ ہارنے والا امیدوار مقبول شیخ ہے جو حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین کا قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔

’اوپر‘ سے احکامات
 جس طرح بلدیاتی انتخابات میں بینظیر بھٹو کے آبائی شہر لاڑکانہ میں ان کی جماعت کو شکست دی گئی اس طرح انتظامی مداخلت شکارپور کے ضمنی انتخابات میں نظر نہیں آئی اور مقامی صحافیوں کے مطابق جس طرح انتظامیہ نے اپنا غیر جانبدار رویہ اختیار کیے رکھا اس سے انہیں ایسا لگا کہ انہیں ایسا کرنے کے لیے ’اوپر‘ سے احکامات تھے۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ حلقہ پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے لیکن جس طرح بلدیاتی انتخابات میں بینظیر بھٹو کے آبائی شہر لاڑکانہ میں ان کی جماعت کو شکست دی گئی اس طرح انتظامی مداخلت شکارپور کے ضمنی انتخابات میں نظر نہیں آئی اور مقامی صحافیوں کے مطابق جس طرح انتظامیہ نے اپنا غیر جانبدار رویہ اختیار کیے رکھا اس سے انہیں ایسا لگا کہ انہیں ایسا کرنے کے لیے ’اوپر‘ سے احکامات تھے۔

کچھ مبصرین کی رائے ہے کہ شکارپور میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات فریقین میں اعتماد سازی کے اقدامات کا حصہ ہیں اور مستقبل میں اس کی مختلف صورتیں بھی ہوسکتی ہیں۔

حدود بل پاس کرنے سے محض ایک روز قبل جب اتحاد برائے بحالی جمہوریت کا پیپلز پارٹی کے دفتر میں اجلاس ختم ہوا تو میزبان پارٹی کے تمام سرکردہ رہنما ’مصروفیات‘ کی وجہ سے چلے گئے اور اتحاد میں شامل مسلم لیگ نواز کے رہنما اقبال ظفر جھگڑا اور سید ظفر علی شاہ نے بریفنگ دی کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ فوجی حکومت سے ’ڈیل یا ڈائیلاگ‘ نہیں ہوگا۔ ان کے اس بیان کی ابھی سیاہی ہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ پیپلز پارٹی نے فوجی حکومت کے حدود بل کے حق میں ووٹ دیا۔

حدود بل کی حمایت پر پیپلز پارٹی کا نظریاتی سوال یا مصلحت اپنی جگہ لیکن ان کی اتحادی جماعت مسلم لیگ نواز کے ترجمان احسن اقبال کہتے ہیں کہ انہیں افسوس ہوا ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے حدود بل کی حمایت سے عوام کی نظر میں حزب مخالف تقسیم ہونے کا تاثر پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب فوجی حکومت کے خلاف حزب مخالف کے متحد ہونے کا وقت ہے اس میں وہ تقسیم ہوتے دکھائی دے رہی ہے۔

اس بارے میں پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید نوید قمر نے کہا کہ حدود قوانین کی حمایت صدر مشرف کی حمایت نہ سمجھی جائے کیونکہ ان قوانین کی وہ نفاذ کے دن سے مخالفت کرتے آئے ہیں اور ان کی جماعت نے اُسے ختم کرنے کی کوشش بھی کی لیکن مذہبی جماعتوں کی شدید مخالفت کی وجہ سے ایسا نہیں کرپائی۔ ان کے مطابق یہ قانون بھیڑوں کا ایک ایسا چھتا تھا جس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال رہا تھا۔اب اگر اس میں ترمیم ہوئی ہے تو اچھی بات ہے اور اس سے مستقبل میں مزید ترمیم کا ایک گیٹ وے کھلا ہے۔

ان کی وضاحتیں اپنی جگہ لیکن بظاہر عوام میں زیادہ تر تاثر یہ ہے کہ حدود قوانین میں حکومت اور پیپلز پارٹی کا ایک ہوجانا ان کے درمیاں مفاہمت کی پینگیں بڑھنے کا آغاز ہے۔

اسی بارے میں
کراچی میں متحدہ کی فتح ریلی
17 November, 2006 | پاکستان
گوادر: مشرف کے دورے پر ہڑتال
16 November, 2006 | پاکستان
حدود بل: جب چاہے قابو کرلو
15 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد