حدود کی سیاسی اور قانونی حدود | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں عرصہ دراز سے رائج زنا سے متعلق حدود قوانین میں ترمیم نے قومی اسمبلی میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ چھ جماعتی دینی اتحاد متحدہ مجلس عمل نے جمعرات شام منظور شدہ قانون کو پرکھنے کے لیے اپنی سپریم کونسل کا اجلاس بلا لیا ہے جبکہ پارلیمانی امور کے وزیر شیر افگن ، جو ابھی تک پیپلز پارٹی کے ایک ناراض دھڑے کی رہنمائی کر رہے تھے ، اپنے تمام ساتھیوں سمیت حکمران مسلم لیگ میں شامل ہو رہے ہیں۔ زنا کے قوانین میں ترمیم کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صدر مشرف نے رات گئے خود قوم سے خصوصی طور پر اس مسئلہ پر خطاب کیا اور بل منظور ہونے کی مبارکباد دی۔ نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے فرداً فرداً متحدہ مجلس عمل کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ان میں پیپلز پارٹی کا ذکر خاص طور پر مبصرین کی توجہ کا مرکز رہا۔ حدود قوانین میں کی جانے والی ترامیم کیا واقعی اتنی اہم ہیں کہ وہ ملک میں کسی دور رس سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں؟ بظاہر تو ایسا نہیں لگتاـ بنیادی طور پر حدود آرڈیننس کے نام سے جانا جانے والا قانون پانچ مختلف قوانین کا مجموعہ ہے۔ اس میں زنا، قذف، شراب پر پابندی، چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا اور کوڑوں کی سزا سے متعلق قوانین شامل ہیں۔
حالیہ ترامیم کو صرف زنا کی حد تک محدود رکھا گیا ہے اور باقی چاروں قوانین اب بھی جوں کے توں موجود ہیں۔ زنا سے متعلق قوانین میں البتہ چند اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ سب سے اہم تبدیلی تو یہ ہے کہ زنا بالجبر کو یکسر حدود کے دائرے سے خارج کر دیا گیا ہے۔ گویا اب زنا بالجبر کے تمام مقدمات عام عدالتوں میں لائے جائیں گے اور گواہوں کے نہ ہونے کی صورت میں دیگر ثبوت بھی قابل قبول ہونگے۔ اس تبدیلی سے زنا بالجبر کی شکار خواتین کے سر سے جرم نہ ثابت ہونے کی صورت میں زنا کے الزام میں دھر لیے جانے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ پاکستان میں موجود انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے پچھلے ستائیس سال میں سینکڑوں خواتین جو زنا بالجبر کا الزام ثابت نا کر سکیں ان کو حدود قوانین کے تحت زنا بالرضا کے مقدمے بھگتنے پڑے ۔ اب غالبا یہ ممکن نہیں رہا۔ اس تبدیلی پر متحدہ مجلس عمل کو اعتراض تو تھا لیکن مذہبی رہنماؤں سے جب بھی استفسار ہوا وہ صرف اتنا کہہ سکے کہ اس تبدیلی سے جبراً زنا کرنے والے کو مزید تحفظ ملتا ہے۔ مبصرین اس اعتراض کو بے وزن اور لایعنی قرار دیتے ہیں۔ دوسری اہم تبدیلی زنا بالرضا سے متعلق ہےاور یہاں حزب اختلاف کی جماعتوں کے نقطہء نظر میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ جنرل ضیا الحق کے نافذ کردہ حدود قوانین میں زنا بالرضا ایک قابل دست اندازی جرم تھا یعنی زنا کے فعل کی اطلاع ملنے پر پولیس ازخود کارروائی کر کے گرفتار بھی کر سکتی تھی۔ اب یہ شق تبدیل کر کے اسے حدود کے ساتھ ساتھ فوجداری قوانین میں بھی شامل کر لیا گیا ہے اور مقدمہ درج کر کے اس پر کارروائی کرنے کا اختیار سیشن جج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ نئے قانون کے مطابق زنا کے عمل کے شکار اشخاص کے پاس دو راستے ہونگے۔ یا تو وہ اپنی شکایت حدود قوانین کے تحت درج کرا سکتے ہیں یا پھر فوجداری قانون کے تحت۔ پہلی صورت میں اگر عدالت ان کی شکایت پر کارروائی کرتی ہے تو ان کو چار گواہ، جو نیک مسلمان مرد ہوں، پیش کرنا ہونگے اور جرم ثابت ہونے پر سزا بھی حدود قوانین کے مطابق ہو گی۔ دوسری صورت میں فوجداری قوانین کے تحت دائر کیے گئے مقدمے میں صرف دو گواہ درکار ہونگے اور جرم ثابت ہونے پر پانچ سال کی قید کی سزا دی جا سکے گی۔ ایک اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ نئے قوانین کے مطابق مقدمے کی ساخت تبدیل نہیں کی جا سکے گی۔ گویا اگر کسی نے مقدمہ حدود کے تحت کیا تو وہی مقدمہ کسی بھی وجہ سے فوجداری قانون کے دائرے میں نہیں آئیگا۔ پرانے قوانین میں اکثر فوجداری قوانین کے تحت درج مقدمے حدود میں شامل کر لیے جاتے تھے۔ اس تبدیلی پر حکومت اور حزب اختلاف میں کافی لین دین ہوئی۔ قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی، جس میں متحدہ مجلس عمل شامل نہیں تھی، چاہتی تھی کہ زنا بالرضا کو جرم کے زمرے میں شامل ہی نہ کیا جائے۔ شاید اسی بات سے گھبرا کر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سلیکٹ کمیٹی کے مجوزہ قانون سے تو پورا ملک ’فری سیکس زون‘ بن جائے گا۔ زنا بالرضا کے معاملے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک اور اہم شق میں تبدیلی کرائی۔ متحدہ مجلس عمل اس شق کا نام فحاشی رکھنے پر مصر تھی جبکہ پیپلزپارٹی نے اسے فارنیکیشن یا جماع میں تبدیل کرایا۔ بظاہر یہ معمولی تبدیلی ہے مگر اس سے اس قانون کا دائرہ فحاشی جیسے وسیع المعنی لفظ کے نسبت کافی محدود ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ مجلس عمل کو زنا بالرضا پر مجوزہ سزا میں کمی پر بھی شدید اعتراض ہے۔ یہ وہ بنیادی تبدیلیاں ہیں جو اس وقت پورے ملک میں موضوع بحث بنی ہوئی ہیں۔ مبصرین کی رائے بھی اب تک مبہم ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں دور رس سیاسی پیچیدگیوں کی حامل ہونگی جب کہ بعض کی رائے میں یہ محض جنرل مشرف کی بڑھتی ہوئی مخالفت سے نبٹنے کا طریقہ ہے۔ |
اسی بارے میں حدود کا ترمیمی بل پاس 15 November, 2006 | پاکستان ’انتہا پسندوں کا زور ٹوٹ گیا ہے‘15 November, 2006 | پاکستان ’حقوق نسواں بل منظور نہیں‘13 September, 2006 | پاکستان ایم ایم اے: استعفے بِل سے مشروط05 September, 2006 | پاکستان جے یو آئی (ف) خواتین کا مطالبہ 04 September, 2006 | پاکستان عدالت انصاف کرے گی: درانی22 June, 2006 | پاکستان کراچی: ایم ایم اے کے خلاف مظاہرہ24 August, 2006 | پاکستان ’ورنہ اس دنیا میں بھی خمیازہ‘ 06 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||