’انتہا پسندوں کا زور ٹوٹ گیا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے تحفظِ حقوق نسواں بل کی منظوری کو ایک تاریخی عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل قرآن و سنہ کے عین مطابق ہے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کا عمل جاری رہے گا۔ پارلیمان میں حدود آرڈیننس میں ترامیم کے بل کی منظوری کے بعد قوم سے اپنے خطاب میں صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ چند عناصر خصوصاً ایم ایم اے کی جانب سے یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت نے ایک ایسا بل پاس کروایا ہے کہ قرآن و سنہ کے خلاف ہے لیکن یہ سراسر جھوٹا الزام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل میں کچھ بھی ایسا نہیں جو قرآن و سنہ سے متصادم ہو۔ صدر مشرف نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ ترمیمی بل میں زنا بالرضا (Fornication) کی شق ایم ایم اے کے دباؤ پر شامل کی گئی بلکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ کام پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ان قانونی ماہرین کا ہے جو اسمبلیوں کے ممبر ہیں۔ صدر مشرف نے کہا کہ ’یہ کام ہم نے کسی کے کہنے پر نہیں کیا بلکہ یہ حقائق کا تقاضا تھا۔‘
صدر نے اپنی تقریر میں زنا کے قانون کے حوالے سے کی جانے والی تبدیلیوں کی تفصیل بھی بیان کی۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ اس بل کی تیاری میں جو وقت لگا وہ دراصل ان مذہبی اور لبرل قوتوں سے بات چیت میں لگا کیونکہ یہ دونوں قوتیں اس بل کے بارے میں اپنے اپنے نظریے کے حوالے سے انتہا پسند خیالات رکھتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف اس بل کی منظوری سے ہی عورتوں کے تمام حقوق کا تحفظ نہیں ہوا بلکہ وٹہ سٹہ، قرآن سے شادی اور ونی جیسی رسومات اور عورتوں کے وراثت میں حصے کے حوالے سے بھی مزید قانون سازی کی ضرورت ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی ترقی کی ذمہ دار معتدل اور ترقی پسند قوتیں انتہا پسندوں کو بتا دیں کہ ان کا زور ٹوٹ چکا ہے۔ صدر نے پاکستانی عوام سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں اعتدال پسند اور ترقی پسند قوتوں کو ووٹ دیں گے کیونکہ اسی میں پاکستان کی بقا ہے۔ اپنی تقریر میں صدر نے مسلم لیگ (ق) اور اس کے اتحادی جماعتوں کو بل منظور کروانے پر مبارکباد دی اور خصوصی طور پر حمایت کرنے پر پاکستان پیپلز پارٹی کا شکریہ بھی ادا کیا۔ |
اسی بارے میں ’پاکستان فری سیکس زون بن جائےگا‘15 November, 2006 | پاکستان حدود کا ترمیمی بل پاس 15 November, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||