’پاکستان فری سیکس زون بن جائےگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے الزام لگایا ہے کہ حقوق نسواں کے نام سے پیش کردہ بل کا مقصد ملک میں فحاشی کی اجازت دینے کے مترادف ہے اور اس سے پاکستان ’فری سیکس زون‘ بن جائے گا۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حدود قوانین میں تمام موجبِ تعزیر دفعات ختم کرکے حکومت ملک کو فری سیکس زون بنانا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا’ہمارا واضح موقف ہے کہ سلیکٹ کمیٹی نے پچھلے سیشن کے دوران ایک بل حقوق تحفظ نسواں بل کے حوالے سے تجویز کیا تھا اور حکومت اس کو پیش کرنا چاہتی تھی مگر ہم نے اسے بالکل مسترد کردیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ اگر اس قسم کا کوئی حکومتی بل آئے گا تو ہم مستعفی ہو جائیں گے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت نے ایوان میں ان کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر بل پاس ہونے کے باوجود انہیں معلوم ہوا کہ اس میں قرآن و سنت کے منافی کوئی شق موجود ہے تو وہ اس کو تبدیل کرنے کے لیے ایک اور بل ایوان میں لائیں گے اور اگر نہ لا سکے تووہ (چوہدری شجاعت) مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو بل ایوان میں پیش کیا ہے۔ اس کے بارے میں حکومت کا دعوی ہے کہ ہم نے اس بل میں علماء کمیٹی کی ترامیم شامل کیں ہیں۔ مگر ایسی صورت میں اب پیش کیا جانے والا بل نہ تو سیلیکٹ کمیٹی اور نہ ہی یہ علماء کمیٹی کا منظور کردہ رہا ہے کیونکہ علماء کا تاثر یہی ہے کہ بل ان کی تجاویز سے بہت مختلف ہے۔
’ ہم نے حکومت سے کہا کہ آپ اس قسم کے بل کو پیش کرنے میں جلدی کیوں کر رہے ہیں۔ ہم حکومت سے حدود بل پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ حکومتی اراکین کو بھی معلوم نہیں وہ کیا پیش کر رہے ہیں۔ حزب اختلاف بھی اس صورت حال میں الجھن کا شکار ہے‘۔ مولانا نے کہا’ہم کسی حتمی فیصلے پر پہنچنے کے لیئے ایم ایم اے کی سپریم کونسل اور پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے۔ حکومت کے منظور کردہ بل پر کنفیوژن برقرار رہے گی اور ہم اس پر مسلسل احتجاج کرتے رہیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی حکمران اسلامی قانون سازی سے فرار کا راستہ اپنا تے رہے ہیں۔1979 میں حکومت نے مجبور ہو کر حدود کے قوانین نافذ کردیے مگر آج حکومت اسے باکل ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مولانا نے الزام لگایا کہ لوگوں کو دھوکہ دینے اور فرضی اطمینان دلانے کے لیے حکومت نے موجودہ بل کا نام ’تحفظ حقوق نسواں‘ رکھا کیونکہ اگر حکومت حدود قوانین کا نام لیتی تو مسلمانوں میں اشتعال پھیل جاتا۔ ’اصل بات یہ ہے کہ خواتین کے حقوق کا ان قوانین سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ظلم میں پسی خواتین کے دیگر حقوق کو تبدیل کرنے کا تو حکومت کو کبھی خیال نہیں آیا البتہ وہ حدود قوانین کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی ہے‘۔ |
اسی بارے میں حدود کا ترمیمی بل پاس 15 November, 2006 | پاکستان تحریک کی دھمکیاں، بل میں ترمیم14 November, 2006 | پاکستان حدود ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش15 November, 2006 | پاکستان حدود تنازعہ: آخری مراحل میں14 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||