BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 November, 2006, 12:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود کا ترمیمی بل پاس

خواتین حدود قوانین کا مکمل خاتمہ چاہتی ہیں۔
پاکستان کی حکومت نے بدھ کو زنا اور قذف کے متعلق اسلامی قوانین یعنی حدود آرڈیننس میں ترامیم کا بل قومی اسمبلی سے اکثریت رائے سے منظور کرا لیا ہے۔

حزب مخالف کی مذہبی جماعتوں کے نمائندوں نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔

مسلم لیگ نواز نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ پیپلز پارٹی نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔

سلیکٹ کمیٹی کے مجوزہ اس ترمیمی بل کے متن میں حکومت نے علما کمیٹی کی تجویز کردہ ایک شق جس میں باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو جرم قرار دیا گیا تھا وہ شامل کردی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے ایک ترمیم پیش کی کہ باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو جرم قرار دینے کی شق میں جہاں بھی لفظ lewdness استعمال کیا گیا ہے اُس کی جگہ لفظ Fornication لکھا جائے۔

جب مذہبی جماعتوں نے بل کی مخالفت کی اور اسے اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا تو حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ بل کی اگر کوئی بھی شق جب بھی غیر اسلامی ثابت ہو تو اس روز وہ مستعفی ہوجائیں گے۔

قومی اسمبلی میں حدود آرڈیننس ترمیمی بل کی منظوری کے وقت پارلیمان کے باہر حکومت مخالف مظاہرہ کیا گیا

انہوں نے اپنا استعفیٰ سپیکر کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پاس رکھ لیں اور جس روز کوئی شق غیر اسلامی ثابت ہو اس دن منظور کرلیں۔

سپیکر نے ان کا استعفیٰ واپس کردیا اور کہا کہ جب وہ موقع آئے گا تو اس وقت پیش کیجے گا۔

متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ آج رات کو ملاقات کریں گے اور دو روزہ مشاورتی اجلاس کے بعد وہ اپنا آئندہ کا لاء عمل پیش کریں گے۔

واضح رہے کہ متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ اگر ان کی مرضی کے بنا بل پاس ہوا تو وہ اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائیں گے۔

قبل ازیں جب وزیر قانون محمد وصی ظفر نے بل پیش کیا تو کسی جماعت نے کوئی احتجاج نہیں کیا بلکہ مذہبی جماعتوں کے اراکین نے اس کی لفظ ’اپوز‘ کہہ کر مخالفت کی۔

سپیکر چودھری امیر حسین کے سوال پر وزیر قانون نے وضاحت کی کہ جو بل پیش کیا گیا ہے وہ ایوان کی ’سلیکٹ کمیٹی، کا منظور کردہ ہے۔ تاہم ان کے مطابق اس میں علماء کمیٹی سے طے پانے والے معاہدے کے مطابق فحاشی سے متعلق شقیں ترامیم کی صورت میں شامل کی جائیں گی۔

’پاکستان فری سیکس زون بن جائے گا‘۔
 انہوں نے الزام لگایا کہ حقوق نسواں کے نام سے پیش کردہ بل کا مقصد ملک میں فحاشی کی اجازت دینے کے مترادف ہے اور اس سے پاکستان ’فری سیکس زون‘ بن جائے گا۔
مولانا فضل الرحمن

جب بل پیش ہوا تو وزیراعظم شوکت عزیز، قائد حزب مخالف مولانا فضل الرحمٰن اور مخدوم امین فہیم موجود تھے لیکن قاضی حسین احمد غیر حاضر تھے۔

قائد حزب مخالف مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جو بل پیش کیا گیا ہے وہ نہ سلیکٹ کمیٹی والا ہے اور نہ علما کمیٹی والا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر خواتین کے حقوق کا بل پیش کرنا چاہتی ہے تو خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے کے بجائے ان کی قرآن سے شادیاں کرانے، وٹہ سٹہ، صلح کے بدلے لڑکیاں دینے اور جبری نکاح پڑھانے پر پابندی کے متعلق قانون میں ترامیم کرے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حقوق نسواں کے نام سے پیش کردہ بل کا مقصد ملک میں فحاشی کی اجازت دینے کے مترادف ہے اور اس سے پاکستان ’فری سیکس زون‘ بن جائے گا۔

پارلیمانی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے کہا کہ حکومت نے جو ترمیمی بل پیش کیا ہے اس میں کوئی شق اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں ہے اور کسی کو اگر اعتراض ہے تو وہ کسی بھی ملک کے عالم دین کی رائے لے لے۔

حکومت نے حزب مخالف کی مشاورت کے بعد بدھ کی شام کو بھی اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ جلد سے جلد اس بل کو منظور کراسکیں۔

وفاقی وزیرِ قانون محمد وصی ظفر نے کہا کہ علماء کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ترمیمی بل کا مسودہ منظور کیا گیا ہے اور کوئی شق بھی اسلام کے منافی نہیں ہے۔

جب یہ بل اسمبلی میں پیش کیا گیا تو پارلیمان کے باہر خواتین کے حقوق کی تنظیموں کے نمائندے اس بل کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ احتجاج کرنے والی ایک خاتون فرزانہ باری نے کہا کہ جب حکومت کا بنایا گیا خواتین کے حقوق کے متعلق کمیشن نے سفارش کی ہے کہ حدود قوانین ختم کیے جائیں تو اس میں ترمیم کیوں؟

ان کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ حدود قوانین میں ترامیم کے بل کی حامی اور مخالف جماعتیں مصلحت پسندی کا شکار ہیں اور اپنی سیاست چمکا رہی ہیں۔

متحدہ مجلس عمل نے احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی سے واک آؤٹ کیا جبکہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے بل کی حمایت کی۔

اسی بارے میں
حدود تنازعہ: آخری مراحل میں
14 November, 2006 | پاکستان
حدود: مذاکرات تعطل کا شکار
15 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد