بل کے کچھ اہم نکات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت نے بدھ کو زنا اور قذف کے متعلق اسلامی قوانین یعنی حدود آرڈیننس میں ترامیم کا بل قومی اسمبلی سے اکثریت رائے سے منظور کرا لیا ہے۔ اس قانون کے تحت بدکاری، شادی اور زنا کے مقصد کے لیے کسی خاتون کو اغوا کرنے، کرائے پر ہائر کرنے، جبر کر کے، خوف یا لالچ یا دھوکہ دہی سے کسی کو بیچنے یا زنا پر مجبور کرنے والے، بیچنے والے اور خریدنے والے سب مجرم قرار پائیں گے اور انہیں عمر قید تک سزا اور جرمانہ کیا جاسکے گا۔ پہلے چار گواہوں کی شرط تھی جو اب بھی ہے۔ لیکن اس میں ایک اضافہ یہ ہے کہ اگر مجاز عدالتی افسر شکایت کنندہ کے بیان اور حالات سے مطمئن ہوں تو ملزمان کے خلاف چار گواہوں کے بنا بھی کارروائی کرسکتاہے اور مجاز افسرِ کسی کی شکایت کو خارج بھی کرسکتاہے۔ نئے قانون کے تحت زنا بالرضا کا اطلاق سولہ سال یا اس سے کم عمر والوں پر کسی طور پر نہیں ہوگا۔ قانونی ماہرین کے مطابق بل میں ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ زنا کے مقدمات میں متاثرہ فرد یا اس کے اہل خانہ کا نام شائع نہیں کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے کو چھ ماہ قید کی سزا ملے گی۔ |
اسی بارے میں حدود کا ترمیمی بل پاس 15 November, 2006 | پاکستان ’پاکستان فری سیکس زون بن جائےگا‘15 November, 2006 | پاکستان تحریک کی دھمکیاں، بل میں ترمیم14 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||