BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 November, 2006, 15:00 GMT 20:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بل کے کچھ اہم نکات

حدود قوانین 1979 میں ضیا دور میں رائج کیے گئے
پاکستان کی حکومت نے بدھ کو زنا اور قذف کے متعلق اسلامی قوانین یعنی حدود آرڈیننس میں ترامیم کا بل قومی اسمبلی سے اکثریت رائے سے منظور کرا لیا ہے۔

اس قانون کے تحت بدکاری، شادی اور زنا کے مقصد کے لیے کسی خاتون کو اغوا کرنے، کرائے پر ہائر کرنے، جبر کر کے، خوف یا لالچ یا دھوکہ دہی سے کسی کو بیچنے یا زنا پر مجبور کرنے والے، بیچنے والے اور خریدنے والے سب مجرم قرار پائیں گے اور انہیں عمر قید تک سزا اور جرمانہ کیا جاسکے گا۔

پہلے چار گواہوں کی شرط تھی جو اب بھی ہے۔ لیکن اس میں ایک اضافہ یہ ہے کہ اگر مجاز عدالتی افسر شکایت کنندہ کے بیان اور حالات سے مطمئن ہوں تو ملزمان کے خلاف چار گواہوں کے بنا بھی کارروائی کرسکتاہے اور مجاز افسرِ کسی کی شکایت کو خارج بھی کرسکتاہے۔

نئے قانون کے تحت زنا بالرضا کا اطلاق سولہ سال یا اس سے کم عمر والوں پر کسی طور پر نہیں ہوگا۔

قانونی ماہرین کے مطابق بل میں ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ زنا کے مقدمات میں متاثرہ فرد یا اس کے اہل خانہ کا نام شائع نہیں کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے کو چھ ماہ قید کی سزا ملے گی۔

مخدوم علی خانترمیمی بل پرخدشات
حدود کےترمیمی بل پرخدشات برقرار
حدود آرڈیننسحدود کی سیاست
حدود آرڈیننس کو سیاست سے بچانے کا عزم
اسی بارے میں
حدود کا ترمیمی بل پاس
15 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد