BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 November, 2006, 05:14 GMT 10:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظلوم خاندان، جسے انصاف کا انتظار ہے

گوجرانوالہ خاندان
اس خاندان نے محنت بھی اور زیادتیوں کا نشانہ بھی بنا
گوجرانوالہ کے نواحی گاؤں چک سادہ کے محنت کش خاندان کے پندرہ افراد لاہور میں اس جوڈیشل انکوائری کے شروع ہونے کا انتظار کررہے ہیں جس کا حکم سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے پانچ روز پہلے دیا تھا۔

اس خاندان کی سربراہ زہرہ بی بی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے علاقے کے بااثرخاندان نے ان کے پورے خاندان کو نسل در نسل زبردستی اپنا غلام بنا رکھا تھا اور ان سے زبردستی گھروں کھیتوں اور مویشی فارمز میں کام کرایا جاتا زہرہ بی بی نے کہا کہ اس دوران ان کی بہو بیٹیوں کو بھی مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

ان دنوں یہ خاندان لاہور میں آل پاکستان بھٹہ مزدور یونین کے دفتر میں پناہ گزین ہے اور ہر گذرتا لمحہ ان کی پریشانی میں اضافہ کررہا ہے اور خاندان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ آزادی اور انصاف کی جدوجہد بہت کی تکلیف دہ ہے۔

زہرہ بی بی
زہرہ بی بی نے پنجاب کے انسپکٹرجنرل پولیس سے اپنی بیٹی سعدیہ سے ہونے والی جنسی زیادتی کی تحریری شکایت کی

اس خاندان کی تین لڑکیوں نے اپنے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام لگائے ہیں انہی میں سے ایک ثمینہ بی بی نے کہا کہ اسے دونوں ملزم بھائیوں نے شراب پلائی اور پھر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور جب اس کی تائی زہرہ بی بی نے شکایت کی تو انہیں اور دیگر رشتہ داروں کو تشدد کانشانہ بنایا۔

فیض محمد کی دوسری بیٹی ماریہ نے بھی جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا ہے ماریہ کی گود میں اس کا ایک برس کا بچہ ہے لیکن ماریہ کے شوہر زاہد کا کہنا ہے کہ وہ اس بچے کا باپ نہیں ہے۔

محمد زاہد نے کہا کہ ماریہ اس کی چچا زاد ہے اور جب گاؤں کے چودھریوں کے لڑکوں کی جنسی زیادتی کی وجہ سے حاملہ ہوگئی تو اس کے چچا نےعزت کا واسطہ دیکر اس سے بیاہ دیا تھا۔

ثمینہ کے تایا
ثمینہ کے تایا

پاکستان میں شادی کے بغیر بچے کی پیدائش کو بہت برا سمجھا جاتا ہے اور مروجہ قانون کے تحت ایسی خواتین کو حدود آرڈیننس کے تحت سنگین مقدمہ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

محمد زاہد نے کہا کہ اس کی چچا کی عزت اس کی اپنی عزت ہے اور اگرچہ یہ بچہ شادی کے چھ ماہ بعد پیدا ہوا ہے لیکن اس نے اسے اپنا نام دیا ہے۔

محمد زاہد نے کہا کہ ی وہ بچے کے باپ کا فیصلہ کرانے کے لیے ہر طرح کے طبی ملاحظے(ڈی این اے ٹسٹ ) کے لیے تیارہے۔

اس کی بیوی ماریہ نے اپنے گود میں بچہ اٹھایا ہواتھا جب اس نے ہکلاتی زبان میں محمد زاہد کی باتوں کی تصدیق۔

الزامات اس لحاظ سے حیرت کا سبب بنتے ہیں کہ یہ خاندان کسی دورافتادہ علاقے نہیں بلکہ وسطی پنجاب کے ایک ایسے گاؤں سے تعلق رکھتا ہے جو شہری آبادی سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔

غلام فاظمہ
غلام فاطمہ جنہوں نے خاندان کو نجات حاصل کرنے میں مدد دی

چک سادہ کے بااثر افراد کی مبینہ غلامی سے نجات کے لیے سب سے پہلے ماریہ اور ثمینہ کے والد فیض محمد نے جدوجہد کا آغاز کیا اور اپنے خاندان کے رہائی کے لیے گوجرانوالہ کی ایک مقامی عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن پولیس نے اسے چوری کے ایک سات برس پرانے مقدمے کے الزام میں عدالت کے احاطے سے ہی گرفتار کر لیا۔ فیض محمد آج تک زیر حراست ہے۔

اس کی گرفتاری کے بعد دوسری قانونی کارروائی فیض محمد کی بھابھی زہرہ بی بی نے کی جس نے پنجاب کے انسپکٹرجنرل پولیس سے اپنی بیٹی سعدیہ سے ہونے والی جنسی زیادتی کی تحریری شکایت کی۔

سعدیہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی اس خاندان کی تیسری لڑکی ہے۔

زہرہ کی تحریری درخواست پر حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ بھی درج ہوا لیکن ایک ماہ گذر جانے کے باوجود تاحال اس کا طبی معائینہ نہیں ہوسکا میڈیکل رپورٹ جنسی زیادتی کے مقدمہ کی ایک اہم ترین شہادت ہوتی ہے۔

اس مقدمے کے نامزد واحدملزم فیصل چیمہ ضمانت پر ہے۔ مقدمہ کے تفتیشی افسر اقبال چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے مدعیہ کو تحفظ کی یقین دہانی کرائی تھی اور یہ بھی کہاکہ وہ پولیس کی گارڈ ان کے ہمراہ بھیجیں گے لیکن ان کےبقول یہ خاندان خوفزدہ رہا اور طبی ملاحظہ لاہور سے کرانے پر مصر رہا جس کی وجہ سے آج تک میڈیکل نہیں ہوسکا۔

متنازع بچہ
سعدیہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی اس خاندان کی تیسری لڑکی ہے
اس مقدمہ میں ملوث چک سادہ کے سیاسی خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے الزامات بے بنیاد ہیں اور ایک این جی او نے رقم کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر یہ کارروائی کی ہے۔

اس خاندان کو پناہ دینے والی تنظیم بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ پاکستان کی سکریٹری جنرل غلام فاطمہ نے کہا ہے کہ انہوں نے اس خاندان کو جبری مشقت سے نجات دلا دی ہے اور اب وہ چاہتی ہیں کہ حکومت اور دوسری این جی اوز آگے آکر اس معاملے کو سنبھالیں۔

بی ایل ایل ایف کی عہدیدار غلام فاطمہ نے کہاکہ جوڈیشل انکوائری کے لیے انہوں نے سیشن جج کو ایک درخواست دیدی ہے لیکن سپریم کورٹ کے تحریری احکامات ملنے تک انکوائری کا آغاز نہیں ہو سکتا۔

پنجاب پولیس کے سربراہ آئی جی ضیاالحسن نے سعدیہ کا گوجرانوالہ سے طبی ملاحظہ کرانے کا حکم دے کر مقدمہ کی تفتیش کا آغاز تو کر دیا ہے لیکن مظلوم خاندان نے گوجرانوالہ جانے سے یہ کہہ کر انکار کردیا ہے کہ انہیں اب جان کا خطرہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد