BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 November, 2006, 21:18 GMT 02:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوجرانوالہ:’غلام‘خاندان کی روداد

پاکستان سپریم کورٹ نے غلامی کے الزامات کی تحقیق کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈسٹرکٹ اور سیشن جج لاہور کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ اس خاتون کی طرف سے الزامات کی تحقیق کرے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ گوجرانوالہ کے فیصل خالد چیمہ خاندان نے ان کے خاندان کو اٹھارہ برس سے غلامی میں رکھا ہوا ہے۔

ان الزامات میں سائلہ نے یہ بھی کہا ہے کہ چیمہ خاندان اس غلامی کے دوران ان کے کمسِن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سیشن جج کو اپنی رپورٹ گیارہ دسمبر سے پہلے سپریم کورٹ کو بھیجنی ہوگی۔ پنجاب پولیس اس بات کی پابند ہوگی کہ وہ سیشن جج لاہور کو ہر قسم کی مدد اور تحفظ فراہم کرے۔

درخواست میں زہرہ بی بی نے کہا تھا کہ وہ پچھلے سال رمضان کے مہینے میں اپنے خاندان کے کچھ افراد کے ہمراہ چیمہ خاندان کے قید سے فرار ہوئی تھیں اور انہیں لاہور میں ایک این جی او نے پناہ دی تھی۔

انہوں نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ان کا خاندان چیمہ خاندان کے پولٹری فارمز، کیٹل فارمز اور زرعی زمینوں اور گھروں میں نسل در نسل کام کرتا رہا ہے اور

نسل در نسل غلامی
 مستقل غلامی میں جکڑ رکھنے کے لیے چیمہ خاندان نے ان کے بچوں کو مختلف اضلاع میں اپنے با اثر قریبی رشتہ داروں کی غلامی میں دے دیا ہے۔
زہرہ بی بی
انہیں مستقل غلامی میں جکڑ رکھنے کے لیے ان کے بچوں کو مختلف اضلاع میں اپنے با اثر قریبی رشتہ داروں کی غلامی میں دے دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان سب سے انتھک محنت کرائی جاتی ہے اور بمشکل دو وقت کی روٹی ملتی ہے لیکن ان کے ساتھ جو شدید ترین زیادتی کی جاتی رہی ہے وہ یہ ہے کہ چیمہ خاندان کے جوان لڑکوں نے ان کے کمسِن بچیوں کی عزتوں کے پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

زہرہ بی بی کا کہنا تھا کہ جب بھی انہوں نے چیمہ خاندان کے بزرگوں سے شکایت کی تو الٹا ان کے اور ان کے خاندان والوں پر تشدد کیا جاتا یا پھر یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا کہ یہ ’کام نہ کرنے کے بہانے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ جب بھی انہوں نے کام چھوڑنے کی بات کی تو چیمہ خاندان نے ’ہم پر وحشیانہ تشدد کیا اور ہم پر جھوٹے مقدمے درج کروانے کی دھمکیاں دیتے رہے‘۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیمہ خاندان ’جرائم پیشہ ‘ ہیں اور مبینہ طور پر وہ ’جب قانون کی گرفت میں آئے تو اپنے کمیوں کے نام پیش کر دیتے اور پھر خود ہی ضمانت وغیرہ کا بندوبست کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے دیور فیصل خالد چیمہ کے شراب کشید کرنے کے بھٹی پر کام کرتے تھے اور ان کو چیمہ خاندان نے گرفتار کرانے بعد میں ضمانت پر رہا کروایا۔

زہرہ بی بی نے اپنی درخواست میں یہ بھی بتایا ہے کہ ان کی تیرہ سالہ بیٹی سعدیہ گل نصیر چیمہ کے گھر میں کام کرتی تھی اور اس کے ساتھ گل نصیر چیمہ کے بیٹے حسین نے زیادتی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب معصوم بچی نے شکایت کی تو اس پر علاقے کے ایک شخص المعروف ’جج جرسی‘ نے ڈنڈے سے تشدد کیا اور مسلسل جنسی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ حسین چیمہ نے بارہا تیرہ سالہ سعدیہ کے ساتھ زیادتی کی۔

زہرہ بی بی نے کورٹ سے درخواست کی کہ سعدیہ کا طبی معائنہ کرایا جائے تاکہ جنسی تشدد کے یہ الزامات ثابت ہو سکیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ فیصل خالد اور ان کے بھائی بلال نے شراب پی کر ایک اور کمسِن بچی ثمینہ دختر فیض احمد کے ساتھ زنا بالجبر کیا اور بعد ازاں فیصل خالد اس کے ساتھ مسلسل زیادتی کرتا رہا۔

زہرہ بی بی نے الزام لگایا کہ فیصل خالد نے ایک ان کی بڑی بیٹی ماریا کو موٹر سائیکل کے ساتھ باندھ کر گھسیٹا اور تشدد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلال چیمہ اور اس کے کزن حسن نے دوپہر کے وقت ان کے سامنے ماریا کو سر عام گلی سے گھسیٹا اور اپنے حویلی میں لے گئے جہاں اس سے زیادتی کی۔

میرے بچے خاندان میں تقسیم
 نو سال قبل آصف چیمہ نے میرے نو سالہ بیٹے کو اغوا کر کے اسلام آباد اپنے قریبی رشتہ دار کے پاس بھیج دیا جو ایک ریٹائرڈ پولیس افسر ہے۔
زہرہ بی بی کی فریاد
زہرہ بی بی نے اپنے درخواست میں کہا ہے کہ ’تقریباً نو سال قبل آصف چیمہ نے میرے نو سالہ بیٹے عمران کو اغوا کر کے اسلام آباد اپنے قریبی رشتہ دار کے پاس بھیج دیا جو ایک ریٹائرڈ پولیس افسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو اس شخص کے گھر نوکر رکھوایا گیا اور اس کو کبھی گاؤں واپس نہیں آنے دیا۔

زہرہ بی بی نے درخواست میں ان تمام مبینہ مظالم کے بارے میں کہا ’ہم خاموش تماشائی بنے اپنی بے بسی پر ماتم کے سوا کچھ نہ کر سکےکیونکہ گل نصیر چیمہ کا بھائی عزیز ایس ایس پی رینجرز تھا جبکہ دوسرا بھائی سیالکوٹ میں تھانیدار تعینات ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیض احمد کو جن کے خاندان کی بازیابی کے لیے ڈسٹرکٹ اور سیشن جج گجرانوالہ کو درخواست دی تھی، پولیس نے 4 اکتوبر 2006 کو گرفتار کر تھا اور اسے لے جا کر سولہ دن تک تشدد کا نشانہ بنایا۔ فیض احمد کو اس کے بعد چوری کے الزام میں سات سال کی سزا ہوئی اور جیل بھیج دیا گیا۔ فیض احمد کی ضمانت کی درخواست گجرانوالہ مجسٹریٹ کے کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

بلیک میلر ہے
 الزام لگانے والی خاتون ’بلیک میلر‘ ہے جس نے ان کے خاندان سے 25 لاکھ روپے مانگے تھے اور نہ دینے کی وجہ سے یہ درخواست سپریم کورٹ میں داخل کرائی ہے۔
آصف خالد چیمہ کا جواب

عدالتی کارروائی کے دوران’آل پاکستان بھٹہ مزدور یونین‘ کی سکریٹری غلام فاطمہ جہاں نے عدالت کو بتایا کہ جب سے زہرہ بی بی کا خاندان ان کے پاس آیا وہ سخت دباؤ میں ہیں اور ان کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمرہ عادلت کے باہر زہرہ بی بی کے خاندان کے فرد شوکت نے انہیں بتایا کہ ان کے بیٹے، داماد اور بہو چیمہ خاندان کے قبضے میں ہیں اس لیے وہ سخت پریشان اور دباؤ میں ہیں۔ تنظیم کی اہلکار نے الزام لگایا کہ گوجرانوالہ پولیس چیمہ خاندان کے زیر اثر ہے ۔

عدالت میں آصف خالد چیمہ نے تمام الزامات کی بھرپور تردید کی اور کہا کہ غلام فاطمہ ایک ’بلیک میلر‘ ہے جس نے ان کے خاندان سے 25 لاکھ روپے مانگے تھے اور نہ دینے کی وجہ سے یہ درخواست سپریم کورٹ میں داخل کرائی ہے۔

سپریم کورٹ نے دونوں پارٹیوں کی بات سنتے ہوئے سیشن کورٹ لاہور کے جج کو حکم جاری کیا کہ وہ معاملات کی تحقیق کرائے اور اس میں دونوں پارٹیوں کو برابر کا موقع دیا جائے۔‘

عدالت کی مزید کارروائی 11 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

درخواست سننے کے لیے سپریم کورٹ کی اس تین رکنی بینچ میں جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس محمد نواز عباس اور جسٹس سید سعید اشہد شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد