خطا کاالزام چچا پر اور سزا بھتیجی کو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی کو مبینہ طور پر اس لیئے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ ان کے چچا پر ملزموں کو شک تھا کہ انہوں نے ان کی ایک عورت کو ’اغوا‘ کر رکھا ہے۔ خانیوال کے علاقے کبیر والہ سے تعلق رکھنے والی چوبیس سالہ غزالہ شاہین نے حال ہی میں ملتان کی بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے ایجوکیشن میں ایم اے کرنے کے بعد ایک نجی تعلیمی ادارے میں پڑھانا شروع کیا تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے غزالہ نے بتایا کہ ان کے والد محمد حسین باٹی ملٹری پولیس کے ریٹائرڈ کانسٹیبل ہیں۔ غزالہ کے ایک چچا واحد بخش علاقے کے ایک زمیندار محمد نواز مرالی کے پاس ٹریکٹر ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل نواز کی بیوی کلثوم اور واحد بخش غائب ہوگئے۔ تاہم کچھ ہی دنوں بعد دونوں سامنے آگئے اور واحد بخش کو لوگوں نے دوبارہ نواز کے لیئے کام کرتے ہوئے دیکھا لیکن بعد میں دونوں ایک دفعہ پھر غائب ہوگئے۔ اس بار (سال دو ہزار پانچ) کلثوم کے بھائی بلخ شیر نے اپنے بہنوئی نواز کے خلاف مقدمہ درج کراتے ہوئے اس شبے کا اظہار کیا کہ اس کی بہن کو قتل کر دیا گیا ہے۔ نواز کی تردید پر کبیروالہ پولیس نے تفتیش کے بعد بلخ شیر کی طرف سے درج کرائے گئے قتل کے مقدمے کو نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کے مقدمے میں تبدیل کردیا۔ کلثوم اور واحد بخش کا آج تک کوئی پتہ نہیں۔
اس دوران نواز اور ان کے ساتھی مبینہ طور پر واحد بخش کے رشتے داروں کو دھمکاتے رہے۔ غزالہ بتاتی ہیں کہ پچیس اور چھبیس اگست کی درمیانی شب آٹھ دس مسلح لوگ ان کے گھر گھس آئے۔ حملہ آوروں میں سے بیشتر نے پولیس کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ حملہ آور غزالہ کو اغوا کرنے لگے تو ان کی والدہ ممتاز بی بی نے مزاحمت کی جس پر انہیں بھی اٹھا لیا گیا۔ ابتدائی لیت و لعل کے بعد پولیس نے غزالہ اور ان کی والدہ کے اغوا کا مقدمہ درج تو کر لیا لیکن ان کی بازیابی پر مبینہ طور پر کوئی توجہ نہ دی۔ پولیس کی عدم دلچسپی کے خلاف مختار مائی اور انسانی حقوق کے دوسرے کئی کارکنوں نے دو سمتبر کو کبیروالہ میں ایک احتجاجی ریلی منعقد ہوئی اور اعلان کیا کہ اگر دو روز میں غزالہ اور ان کی والدہ کو بازیاب نہ کرایا گیا تو وہ خانیوال کے ضلعی پولیس افسر کے دفتر کے باہر دھرنا دیں گے۔ پانچ ستمبر کو کبیروالہ کے پولیس آفیسر ڈی ایس پی داؤد حسنین عباسی نے ایک اخباری کانفرنس کے ذریعے اعلان کیا کہ غزالہ اور ان کی والدہ کو بازیاب کرالیا گیا ہے جبکہ ایک اغوا کار نذر مرالی کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔نذر کے بارے بتایا گیا ہے کہ وہ نواز مرالی کے بھانجے ہیں۔ بازیابی کے فوری بعد غزالہ نے اس بات سے انکار کیا کہ اغوا کے دوران ان سے جنسی زیادتی کی گئی ہے۔ تاہم اپنی بازیابی کے تین روز بعد انہوں نے علاقہ مجسٹریٹ کو ایک درخواست دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔
اس بارے میں بات کرتے ہوئے غزالہ کہتی ہیں کہ نہ صرف ملزموں نے انہیں دھمکایا تھا کہ جنسی زیادتی کا ذکر نہیں کرنا بلکہ خاندان والوں نے بھی یہی سمجھایا کہ اس بات کو مخفی رکھنے میں ہی بہتری ہے۔ مجسٹریٹ کے حکم پر طبی معائنہ کرایا گیا جس میں غزالہ کے ساتھ جنسی زیادتی ہونا ثابت ہوگیا لیکن پولیس ابھی تک سات نامزد ملزموں میں سے صرف ایک ملزم کو ہی گرفتار کر سکی ہے۔ ڈی ایس پی داؤد حسنین سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا پولیس نے گرفتار ملزم نذر مرالی سے پولیس کی جعلی وردیاں اور ایک بندوق برآمد کر لی ہے جبکہ باقی ملزموں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزالہ نے ابھی تک پولیس کو یہ نہیں بتایا کہ انہیں اغوا کے دوران جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔ ان سے جب کہا گیا کہ انہوں نے عدالت میں بیان دیا ہے اور ساتھ ہی طبی رپورٹ میں بھی جنسی زیادتی کی تصدیق ہوگئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس بارے کچھ نہیں جانتی۔ ادھر غزالہ کا کہنا تھا کہ پولیس معاملے کو دبانا چاہتی ہے اور اسی لیئے اس نے ابھی تک جنسی زیادتی والے معاملے کو مقدمے کا حصہ نہیں بنایا۔ غزالہ نے کہا کہ وہ انصاف کے لیئے آخری دم تک لڑیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بدھ کو اسلام آباد جا کر ایک احتجاجی مظاہرہ کرنے کا بھی سوچ رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس سکول میں وہ پڑھاتی تھیں اس کی انتظامیہ نے یہ کہتے ہوئے انہیں ملازمت میں رکھنے سے معذرت کر لی ہے کہ ان کی موجودگی سے ادارے کی شہرت متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ غزالہ کے ساتھ ہونے والے واقعہ نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ بھی حاصل کی ہے۔ لندن سے شائع ہونے والے اخبار ’دی سنڈے ٹائمز‘ نے اپنے چوبیس ستمبر کے شمارے میں ان کی داستان کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’فیصلہ مفروضوں پر مبنی تھا‘27 June, 2005 | پاکستان ونی، ریپ اور جنرل مشرف کا بیان16 December, 2005 | پاکستان مختاراں مائی کیس کے ملزماں رہا10 June, 2005 | پاکستان ایک سال تک ہوس کا شکار ہونے والی لڑکی15 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||