BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 September, 2005, 16:04 GMT 21:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے خلاف خواتین کا احتجاج

خواتین کا احتجاج
خواتین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے
صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کے بارے میں مبینہ ’ریمارکس‘ کے خلاف جمعرات کو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور جلوس بھی نکالا۔

مظاہرے میں شریک کئی سو خواتین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر صدر مشرف سے معافی مانگنے، خواتین کا احترام کرنے اور انہیں حقوق دینے کے مطالبے درج تھے۔

کڑی دھوپ میں دوپہر کے وقت ہونے والے اس مظاہرے میں بزرگ اور نوجوان خواتین و مرد بھی شامل تھے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران زبر دست نعرے بھی لگائے۔ احتجاج کے دوران پارلیمان جانے والی سڑک چائنا چوک سے آگے بند کردی گئی۔

خواتین کے احتجاج کے دوران پنجابی زبان میں ایک نیا نعرہ ’آئی زنانیاں وچ میداناں، نس مشرف نس اور بھج مشرف بھج‘ بھی سننے کو ملا۔ جبکہ شرکاء بڑے جوش سے ’لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی، جنرل کرنل کی سرکار نہیں چلے گی‘ اور ’عورت دشمن کی سرکار نہیں چلے گی‘ جیسے نعرے بھی لگاتے رہے۔

انسانی حقوق کے کمیشن کی سرکردہ رہنما حنا جیلانی، خواتین کے حقوق کی تنظیموں کی رہنما فرزانہ باری، شہناز بخاری اور نعیم مرزا سمیت دیگر بھی اس وقت موجود تھے۔

اقلیتی رہنما جے سالک بھی اپنے روایتی انداز میں خواتین کے ہمراہ اس احتجاج میں شامل ہوئے اور نعرے لگائے۔

مظاہرے میں پشاور اور لاہور سے بھی کچھ خواتین شرکت کے لیے آئی تھیں۔ خواتین رہنماؤں کا دعویٰ تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے اب تک کے خواتین کے مظاہروں میں یہ سب سے بڑا تھا۔

جلوس میں زیادہ تعداد نوجوان خواتین اور بالخصوص مختلف غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والی خواتین کی تھی لیکن بعض خواتین نقاب لگا کر اور چند افغانی برقعہ پہن کر شریک ہوئیں۔

واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے دو ہفتے قبل ’واشنگٹن پوسٹ، کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان میں زنا بالجبر کے واقعات ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے اور ان کے مطابق لوگ کہتے ہیں کہ کینیٰڈا کا ویزہ حاصل کرنا ہے یا امیر بننا ہے تو ’ریپ‘ کروالیں۔

صدر نے اس پر سخت رد عمل ہونے کے بعد کہا تھا کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ لیکن متعلقہ اخبار نے صدر کی آواز میں ٹیپ جاری کردیا تھا۔

صدر مشرف کے اس انٹرویو کے بعد پاکستان بھر میں خواتین نے شدید احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک صدر معافی نہیں مانگیں گے ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد