| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک سال تک ہوس کا شکار ہونے والی لڑکی
بورے والا کی چودہ سالہ لڑکی آمنہ بی بی کی طرف سے جسے نشہ آور انجیکشن لگا کر ایک سال تک ہوس کا نشانہ بنایا گیا، گورنر پنجاب‘ وزیراعلی پنجاب اور دیگر حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور ان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ آمنہ بی بی ایک برس تک ہوس کانشانہ بننے کے بعد ملزمان کے اڈے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی تھی اور بعد میں اس نے پولیس کے سامنے ملزمان کی نشاندہی بھی کی لیکن تاحال پولیس ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بورے والا کے نواحی گاؤں 253 ای بی کے سردار محمد کی بیٹی آمنہ نے جو قالین بافی کا کام کرتی تھی بتایا کہ اس کو تیس جنوری 2003 کو گاؤں کے رہائشی محمد اکرم گجر نےمحبت کے سہانے خواب دکھائے اور ایک روز اچانک اس کو اپنے ساتھ شہر چلنے کا کہا۔ جب وہ اس کے ہمراہ شہر پہنچی تو اس نے ’مجھے دو نامعلوم افراد کے حوالے کر دیا اور خود وہاں سے رفو چکر ہو گیا۔‘ دونوں افراد اس کو ورغلا کر شہر کی نواحی آبادی اختر ٹاؤن مرضی پورہ میں واقع ایک برائی کے اڈے پر لےگئے۔ اس اڈے کی مالک شہناز نامی عورت تھی اور وہاں پر شہناز اور محمد یعقوب عرف کاکو اس کو آٹھ ماہ تک نشہ آور ٹیکے لگا کر اڈے پر آنے والے افراد سے رقم وصول کر کے جنسی ہوس کا نشانہ بنواتے رہے۔ اسی دوران اڈے کی مالکہ کو اس کے خاوند وکیل بھٹی نامی شخص نے قتل کر دیا اور وہ اڈہ بند ہو گیا۔ یعقوب عرف کاکو اسے مومن آباد، ملتان میں رہائش پذیر اپنے بھانجے محمد اسلم کے ڈیرہ پر لےگیا جہاں بقول آمنہ بی بی کے دونوں ماموں بھانجا ’میری آبرو لوٹنے کے علاوہ نشہ آور انجیکشن لگا کر مجھے ایک رات میں چار سے پانچ اشخاص کو پیش کرتے رہے۔‘ ’اس دوران میں نے وہاں سے بھاگنے کی متعدد کوششیں کی لیکن جنسی تشدد کے باعث میری حالت ایسی ہوگئی کہ مجھ میں سکت نہ رہی اور میں کو شش کے باوجود وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ چار ماہ بعد یعقوب کاکو مجھے واپس اپنے گھر لے آیا اور کچھ روز وہاں رکھنے کے بعد نواحی قصبہ گگو منڈی میں واقع محمد اعظم لنگڑا کے قحبہ خانے لے گیا۔‘ آمنہ بی بی کے مطابق ’وہاں میرے علاوہ چار لڑکیاں اور تھیں۔ اعظم اور متعدد افراد وہاں پر مجھ سے اپنی جنسی ہوس پوری کرتے رہے اور بعد میں یعقوب کاکو مجھے واپس بورے والا لے آیا۔ جب اس کو معلوم ہوا کہ میرے والدین نے میری بازیابی کے لئے پولیس کو درخواست دے دی ہے تو اس نے اپنے بیٹے کے ذریعے مجھے پولیس سٹیشن کے دروازے کے باہر چھوڑ دیا اور خود وہاں سے فرار ہو گیا۔‘ انہوں نے بتایا کہ وہ پولیس کے وساطت سے ہی اپنے والدین کے پاس پہنچی۔ ’پولیس نے بعد میں میری نشاندہی پر گگو منڈی میں اعظم کے گھر چھاپہ مارا۔وہاں پر میری موجودگی میں اعظم اور اس کے ملازم کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ وہاں موجود دھندہ کرنیوالی چار لڑکیوں کو چھوڑ دیا گیا-‘ آمنہ بی بی کے مطابق محمد اکرم گجر نے اسے اس آگ میں دھکیلا تھا لیکن پولیس اس کے خلاف کارروائی کرنے سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے- آمنہ بی بی کی والدہ جمیلہ بی بی نے بتایا کہ جب ان کو اپنی بیٹی کے اغواء کا پتا چلا تو انہوں نے چند شواہد کی بنا پر گگومنڈی پولیس کو اس کی بازیابی کے لئے درخواست دی تھی۔ اس درخواست میں محمد اکرم گجر کو ملزم نامزد کیا گیا تھا لیکن گاؤں کے بااثر افراد نے محمد اکرم کو کارروائی سے بچانے کےلئے ان پر دباؤ ڈالا۔ انہیں کہا گیا کہ وہ اکرم گجر کے خلاف درخواست نہ دیں تو ان کی بیٹی کی بازیابی میں ان کی مدد کی جائے گی لیکن بعد میں کسی نے ان کی مدد نہ کی اور نہ ہی پولیس نے کوئی کارروائی کی۔ مقامی پولس نے لڑکی کے بیان پر ملزمان محمد یعقوب عرف کاکو، محمد اسلم انصاری، شہناز اور انور بی بی کے خلاف حدود اور اغواء آرڈیننس کی اسلامی دفعات کے تحت مقدمہ درج تو کیا ہے لیکن پولیس ریکارڈ کے مطابق ابھی تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا- |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||