BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 July, 2006, 16:33 GMT 21:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پانچ افراد کو سزائے موت، مدعی منحرف

ثریا اپنے شوہر بوٹا کے ساتھ
ثریا کا کہنا ہے کہ وہ مجرموں کو نہیں پہچان سکتیں
سیالکوٹ جیل میں بارہ جولائی کو پانچ افراد کو ایک عورت سے اجتماعی زیادتی کرنے کا جرم ثابت ہونے پر پھانسی دی جانےوالی ہے جبکہ مدعی خاتون نے آج (جمعرات کے روز) کہا ہے کہ یہ افراد بےگناہ ہیں اور انہیں سزائے موت نہ دی جائے۔

ڈسکہ سیالکوٹ کی رہنے والی اکتالیس سالہ ثریا بی بی نے جمعرات کے دن اپنے شوہر محمد بوٹا اور ایک وکیل اقبال مغل کے ساتھ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کی۔

ثریا بی بی کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ ستمبر انیس سو ستانوے میں رات کے وقت ان کے گھر میں داخل ہونے والے پانچ نقاب پوش افراد نے زبردستی اجتماعی زیادتی کی تھی لیکن وہ انہیں پہچان نہیں سکتیں۔ تاہم پولیس میں درج کرائی گئی ایف آئی آر میں انہوں نے ملزموں کو پہچاننے کا دعوی کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میری وجہ سے یہ پانچ بےگناہ جانیں نہ جائیں۔میرے بھی بچے ہیں۔ میں خدا کے سامنے گناہ گار نہیں ہونا چاہتی۔‘

انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف سے درخواست کی ہے کہ ان افراد کو سزائے موت نہ دی جائے جن کی رحم کی اپیل وہ گزشتہ ماہ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔

پانچ ملزم مشتاق پپو، شہباز مسیح، محمد یوسف، عبدالجبار اور افتخار احمد بھی ڈسکہ شہر کے رہنے والے ہیں اور اس وقت سیالکوٹ جیل میں قید ہیں۔ ان کو پھانسی دینے کے لیئے بلیک وارنٹ جاری ہوچکے ہیں۔

ان ملزموں کی مائیں اور دوسرے اہل خانہ بھی اس پریس کانفرنس میں موجود تھے او رہاتھ جوڑ جوڑ کر رحم کی اپیلیں کر رہے تھے۔

گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پانچوں ملزموں کو مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں سزائے موت کا حکم دیا تھا اور لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے ان کی سزا برقرار رکھی تھی۔

موت کی سزا پانے والوں کی مائیں اور دوسرے خاندان والے

سپریم کورٹ میں سزا پانے والوں کے وکیل نے کہا تھا کہ زیادتی کا نشانہ بننے والی عورت کا طبی معائنہ تاخیر سے کرایا گیا جس سے ان پر اجتماعی زیادتی کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔

تاہم سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ ہائی کورٹ اس معاملہ کا پہلے ہی تفصیلی جائزہ لے چکی ہے اور سپریم کورٹ اس کا دوبارہ جائزہ نہیں لے سکتی۔

ثریا بی بی کے وکیل اقبال مغل کا کہنا ہے کہ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں بھی درخواست دی تھی کہ یہ سزا پانے والے ملزم بے گناہ ہیں لیکن عدالت نے قرار دیا تھا کہ اجتماعی زیادتی کے قانون میں سمجھوتہ کی گنجائش نہیں اور ان کی سزا برقرار رکھی۔

ثریا بی بی نے آج جو حلفی بیان پریس کے سامنے پیش کیا اس میں کہا کہ انہوں نے زیادتی کے پندرہ دن بعد ایک درخواست پر انگوٹھا ثبت کیا تھا جو ان کے محلہ والوں نے لکھی تھی۔ وہ ان پڑھ ہیں اور لکھ پڑھ نہیں سکتیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد ان کا ایک بیٹا بجلی کا کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگیا تھا جس کے باعث وہ ذہنی طور پر مفلوج تھیں۔

سات روز پہلے انتیس جون کو فیصل آباد ضلعی جیل میں میں چار نوجوان افراد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا جنہیں عدالت نے سترہ سال پہلے ایک لڑکی کی اجتماعی آبروریزی کرنے پر سزائے موت سنائی تھی۔

پاکستان کے قانون کے مطابق کسی عورت سے اجتماعی زیادتی کا مقدمہ اسلامی شریت کے حدود آرڈیننس کے تحت کیا جاتا ہے جس میں جرم ثابت ہونے پر کم سے کم سزا موت ہے جسے صرف صدر مملکت ہی رحم کی اپیل منظور کرتے ہوئے عمر قید میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

تاہم صدر مشرف نے اپنے دور صدارت میں آج تک سزائے موت کے کسی سزا یافتہ شخص کی رحم کی درخواست منظور نہیں کی۔

اسی بارے میں
شیعہ رہنما کو سزائے موت
24 June, 2006 | پاکستان
بچوں نے پھانسی سے بچا لیا
07 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد