بچوں نے پھانسی سے بچا لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے سینٹرل جیل میں قتل کے جرم میں قید سعید معیز کے بچوں کی معصومیت نے اسے پھانسی کے پھندے سے بچا لیا ہے۔ سعید معیز کو پولیس نے مئی انیس سو ننانوے کو ایک دکاندار مرزا عزیز بیگ کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے اسے سزائے موت سنائی تھی۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے بعد صدر مشرف نے بھی اس کی رحم کی اپیل رد کردی تھی ۔عدالت نے چھ جون کو اس کی پھانسی کا دن مقرر کیا تھا۔ پھانسی سے کچھ گھنٹے قبل مرزا عزیز بیگ کے لواحقین نے عدالت پہنچ کر ملزم کو معاف کردیا۔ سعید معیز کے چھوٹے بھائی سعید آصف نے بی بی سی کو بتایا کہ والدہ اور معیز کے بچوں، نو سالہ طلحہ اور سات سالہ حمزہ، کے ہمراہ مقتول کے گھر گئے تھے اور ان کی منت سماجت کی۔ آصف نے بتایا کہ مرزا عزیز بیگ کے لواحقین کو بچوں پر رحم آگیا اور انہوں نے کہا کہ بچوں کو کس جرم کی سزا دیں اور انہوں نے ہمارے بھائی کو معاف کردیا۔ آصف کے مطابق عدالت نے سزائے موت کو معطل کردیا ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ اس کو عمر قید میں تبدیل کیا جائیگا تاہم سزا معطل ہونے پر بھی ہمیں خوشی ہے۔ سعید کے بڑے بھائی طارق نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ اتفاقی حادثہ تھا،جس کے پس پردہ کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ سعید بہت ٹھنڈے مزاج والا نوجوان ہے اور عام لوگوں میں اس کا اچھا تاثر تھا۔ کوئی اس سے ایسے کسی واقعے کی توقع نہیں کرسکتا اس لیئے سب سمجھتے ہیں کہ یہ ایک حادثہ تھے۔ مقتول کے ورثا مقدمہ بھی درج کروانا نہیں چاہتے تھے مگر پولیس یا کسی اور نے انہیں مجبور کیا ۔ طارق نے بتایا کہ وہ پولیس کی تحقیقات سے شروع سے ہی مطمئن نہیں تھے۔
سیعد معیز کے تین بھائی اور پانچ بہنیں ہیں جبکہ واقعے کے بعد اس کی بیوی دو بچوں کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیئے اپنے میکے چلی گئی۔ سعید معیز نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی ہے اور وہ سیاسی طور متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ مہاجر قومی موومنٹ سے بھی منسلک رہا ہے۔ طارق معیز نے بتایا کہ آوارہ گردی اور تنظیموں سے بچنے کے لیئے انہوں نے سعید کو سعودی عرب بھیج دیا تھا۔ جہاں وہ ڈھائی سال رہا مگر اسے سعودی عرب موافق نہ آیا اور بیمار ہوگیا۔ سعید کے بارے میں طارق کا کہنا ہے کہ وہ جیل جانے کے بعد بدل گیا ہے اور اس نے پانچ وقت نماز پڑھنا شروع کر دی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اگر اللہ نے زندگی کا موقعہ دیا توزندگی ایمان کے ساتھ گزارے گا۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم سزائے موت کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیتی ہے۔ تنظیم کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم سزائے موت کو انسانی حقوق کے خلاف غیر منصفانہ اور ناجائز سزا سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ملزم چاہئے کتنے ہی سنگین جرم میں ملوث ہو مگر سزائے موت غیر منصفانہ عمل ہے۔ انہوں نے انسداد دہشتگری کے عدالتوں کے قیام کو متبادل عدالتی نظام قرار دیا اور کہا اس سے کنفیوژن پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی عدالتوں کے عام عدالتوں کی تعداد بڑھائی جائے اور انہیں سہولیات فراہم کی جائے۔ واضح رہے کہ انیس سو ننانوے سے انسداد دہشتگردی کی عدالت کے قیام کے بعد سعید معیز تیسرا ملزم ہے جس کی سزا پر عملدرآمد ہونا تھا اس سے قبل ایک تاجر اور ایک پروفیسر کے قتل میں ملوث دو ملزمان کو پھانسی دی گئی تھی۔ یاد رہے کہ کراچی میں گزشتہ دس سالوں میں دہشتگردی کی بڑی کارروائیاں ہوئی ہیں جن میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوئی تھی مگر بم دھماکوں یا بڑی دہشتگردی کے واردات کے کسی ملزم کی سزائے موت پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں سزائے موت ایک ماہ کے لیئے مؤخر23 May, 2006 | پاکستان طاہر کو سزائےموت نہ دیں: برطانیہ18 May, 2006 | پاکستان بھارتی ’جاسوس‘ کی سزائے موت برقرار09 March, 2006 | پاکستان 4 کو سزائے موت 2 کوعمر قید04 October, 2005 | پاکستان سربجیت : سزائے موت کا حکم 27 September, 2005 | پاکستان مشرف پر حملہ: پانچ کو سزائے موت26 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||