BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 March, 2006, 11:41 GMT 16:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سربجیت کی سزائے موت برقرار

منجیت سنگھ
سربجیت سنگھ انیس سو نوے سے پاکستان میں قید ہیں
پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے ملک میں بم دھماکے اور بھارت کے لیے جاسوسی کرنے کے الزامات کے تحت سزائے موت پانے والے بھارتی شہری سربجیت سنگھ کو سزا سے بچانے کے لیے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی چار میں سے ایک درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

اب صدر جنرل پرویز مشرف ہی سربجیت سنگھ کو صدارتی اختیارات کے تحت معافی دے کر سزائے موت سے بچا سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے دو ججوں جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس شاکر اللہ جان پر مشتمل بنچ نے جمعرات کو سربجیت سنگھ عرف منجیت سنگھ کی سپریم کورٹ کے گزشتہ برس دیئے گئے فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی کی درخواست کو مختصر سماعت کے بعد مسترد کر دیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ نظر ثانی کی اپیل میں جو نکات اٹھائے گئے ہیں وہ قابل قبول نہیں ہیں۔ عدالت کے مطابق نظر ثانی کی اپیلیں دیر سے دائر کی گئیں اور وکیل کا یہ نکتہ کہ عدالت دیر سے دائر کی گئی اپیلوں کو بھی سننے کا اختیار رکھتی ہے اس لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے کہ یہ نکتہ وکیل نے سربجیت کی سزا کے خلاف اپیل میں نہیں اٹھایا تھا۔

 صدر جنرل پرویز مشرف ہی سربجیت سنگھ کو صدارتی اختیارات کے تحت معافی دے کر سزائے موت سے بچا سکتے ہیں

سربجیت سنگھ انیس سو نوے سے پاکستان میں قید ہیں اور بھارت کے لیئے جاسوسی کرنے اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں چار بم دھماکے کرنے پر انہیں انیس سو اکانوے میں لاہور کی ایک عدالت نے الگ الگ موت کی سزا سنائی تھی جس کو بعد میں اعلی عدالتوں، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔ ان دھماکوں میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سربجیت کے وکیل ایڈوکیٹ رانا عبدالحمید کا اس فیصلے کے خلاف درخواست میں کہنا تھا کہ سربجیت کے خلاف بعض سرکاری گواہوں کے بیانات میں متضاد باتیں کہی گئی ہیں جو کہ سربجیت کے حق میں جاتی ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس استدلال کو مسترد کر دیا تھا۔

سربجیت سنگھ کو ملنے والی سزا کے معاملے کو بھارتی میڈیا نے بڑی کوریج دی تھی اور وزیراعظم منموہن سنگھ نے گزشتہ برس نیو یارک میں صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات میں سربجیت کی معافی پر بات کی تھی۔

اس ملاقات کے بعد بھارت کے سابق وزیر خارجہ کنور نٹور سنگھ نے بیان دیا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف سربجیت کو معاف کردیں گے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ منجیت سنگھ درحقیقت سربجیت سنگھ ہیں اور پاکستانی حکومت کو ان کی شناخت کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔

بھارت میں سربجیت عرف منجیت سنگھ کے اہل خانہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کو پھانسی دی گئی تو وہ خود کشی کر لیں گے تاہم پاکستانی حکام کے مطابق باضابطہ طور پر سربجیت سنگھ کے اہل خانہ نے پاکستان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد