منجیت ملاقات، درخواست منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے بھارت کی اس درخواست کو منظور کر لیا ہے کہ اس کے ہائی کمشنر کو پھانسی کی سزا پانے والے منجیت سنگھ عرف سربجیت سنگھ سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ اس بات کا اعلان پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا۔ دفترِخارجہ کے ترجمان نعیم خان نے یہ بتایا ہے کہ اس ضمن میں بھارتی سفارت خانے کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ چند روز قبل بھارتی ہائی کمیشن نے ’قونصلر ایکسس‘ یعنی متعلقہ ملزم تک سفارتکاروں کو رسائی دینے کی باضابطہ درخواست دی تھی۔ منجیت سنگھ عرف سربجیت سنگھ کو مبینہ طور پر بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے پاکستان میں متعدد بم دھماکے کرنے کے جرم میں سن انیس سو نوے میں گرفتار کیا گیا تھا اور ایک سال بعد انہیں لاہور کی ایک انسداد دہشت گردی کی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی اور معاملہ عدالتوں میں التواء کا شکار رہا لیکن گزشتہ ہفتے جب پاکستان کی عدالت اعظمیٰ نے اپیل مسترد کردی تو ایک بار پھر اس بارے میں خبریں شائع ہونا شروع ہوئیں۔ بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست داخل ہوسکتی ہے یا پھر صدر مملکت سے رحم کی اپیل کی جا سکتی ہے اور وہی اس بات کے مجاز ہیں۔ بھارت کے بیشتر اخبارات اور ٹی وی چینلز نے منجیت سنگھ کو جاسوسی کے الزام میں ملنے والی سزا کے بارے میں نمایاں طور پر خبریں شائع اور نشر کی ہیں۔ کئی بھارتی اخبارات نے سربجیت کی بیوی، بچوں اور بہن کی تصویریں بھی شائع کی تھیں جو پھانسی کے پھندوں کے سامنے کھڑی ہیں۔ ان سبھی نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر سربجیت سنگھ کو پھانسی دی گئی تو وہ خودکشی کر لیں گی اور اس کی ذمہ داری ہندوستان و پاکستان کی حکومتوں پر ہو گی۔ واضح رہے کہ پاکستان میں جب منجیت سنگھ کو سزا دینے کا حکم آیا تو اس کے بعد ان کے خاندان نے کہا کہ ان کا نام منجیت سنگھ نہیں بلکہ سربجیت سنگھ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||