بھارتی اہلکاروں کی منجیت سےملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں نے منگل کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید سزائے موت کے مجرم منجیت سنگھ یا سربجیت سنگھ کی شناخت کے لیے ان سےملاقات کی ہے۔ بھارتی ویزاقونصلر نے کہا کہ قیدی نےاپنے آپ کو سربجیت سنگھ ہی بتایا ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار نے کہا ہے کہ شناخت کے حوالے سے انہیں جو معلومات ملی ہیں ان سے وہ ( ذاتی طور پر) مطمئن ہیں لیکن اس کی سرکاری بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد کے ویزاقونصلر دیپک کول اپنے ایک ساتھی اہلکار کے ہمراہ ہائی کمشن کی سیاہ کار میں صبح ساڑھے دس بجے کوٹ لکھپت جیل پہنچے ملاقات کے بعد دوپہر ایک بجے واپس چلے گئے۔ سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل جاوید لطیف نے بتایا کہ یہ ملاقات ان کے دفتر میں ہوئی اور ایک گھنٹے تک جاری رہی اس موقع پر پاکستانی وزارت داخلہ کے حکام بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار ایک سوالنامہ بنا کر ساتھ لائے بھارتی ویزا قونصلر دیپک کول نے کوٹ لکھپت جیل کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سےگفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سربجیت سنگھ سے یہ ملاقات ان کی شناخت کے لیے کی گئی اور اس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ وہ واقعی بھارتی شہری ہیں بھی یا نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے مطمئن ہوگئے ہیں لیکن ان کی دی گئی معلومات کی سرکاری سطح پر تصدیق ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی ملاقات اچھے ماحول میں ہوئی اور انہیں جو معلومات چاہیے تھیں وہ انہوں نے حاصل کر لی ہیں اور وہ یہ معلومات دہلی بھجوا رہے ہیں۔جہاں اس کی تصدیق کے لیے تحقیقات کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سربجیت سنگھ ٹھیک تھے اور انہوں نے اپنے اہلخانہ کے لیے ایک پیغام بھی دیا ہے جو مسٹر کول نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتانے سے انکار کردیا اور کہا وہ یہ پیغام ان کے اہل خانہ کو ہی دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو مثبت انداز سے دیکھنا چاہیےاور دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کے قیدیوں کو مکمل قانونی مشاورت اور اپنے دفاع کا ہر موقع ملنا چاہیے۔ اس قیدی کو پاکستانی حکام نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ قرار دیکر گرفتار کیا تھا اور لاہور فیصل آباد اورقصور میں بم دھماکوں میں متعددافراد کی ہلاکت کا ملزم قرار دیا تھا۔ انیس سواکانوے میں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے انہیں سزائےموت سنائی۔ اٹھارہ اگست کو سپریم کورٹ نےان کی اپیل مسترد کردی ہے۔
بھارت میں ان کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ پاکستانی عدالتوں نے منجیت سنگھ کو سزا سنائی ہے جبکہ ان کا اصل نام سربجیت سنگھ ہے۔ بھارت میں ان کی رہائی کے لیے مظاہرے ہوئے ہیں اور بھارتی وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں صدر مشرف سے بات کریں گے۔ چند روز قبل ہی صدر مشرف نے اپنے اوپر قاتلانہ حملہ کی سزا پانے والے پاکستانی ملزموں کی رحم کی اپیل مستردکی ہے اور ایک سابق فوجی کو ملتان میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ مبصرین کا کہناہے کہ ان حالات میں منجیت سنگھ یا سربجیت سنگھ کی رہائی کا فیصلہ خاصا مشکل ہوگا۔
جہاں ایک طرف بھارتی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آرہی ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس قیدی کو رہائی ملنی چاہیے وہاں پاکستان کے بعض اخبارات میں اس نوعیت کے سوال اٹھائےگئے ہیں کہ اگر صدر نے اپنے اوپر قاتلانہ حملے کے ملزموں کی رحم کی اپیل قبول نہیں کی تو پھر ریاست پر حملے کے ملزم کی رحم کی اپیل کیسے مان سکتے ہیں۔ قیدی نے تاحال رحم کی اپیل دائر نہیں کی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہا ہے کہ ابھی وہ سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل بھی کر سکتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||