سربجیت : سزائے موت کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھارتی شہری سربجیت سنگھ عرف منجیت سنگھ کی ایک اور اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم سنایا ہے۔ جسٹس عبدالحمید ڈوگر ( قائم مقام چیف الیکشن کمشنر) اور جسٹس سید سعید اشھد پر مشتمل بینچ نے منگل کے روز چوتھے مقدمے میں انہیں ہونے والی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت مکمل کرتے ہوئے یہ حکم سنایا۔ سربجیت سنگھ کے وکیل رانا عبدالحمید نے بتایا کہ ان کے موکل پر سن انیس سو نوے کے دوران چار مختلف علاقوں میں بم دھماکے اور بھارت کے لیے جاسوسی کے الزامات کے تحت مقدمات درج ہوئے تھے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سربجیت سنگھ کے خلاف چاروں مقدمات کا علیحدہ علیحدہ ٹرائل ہوا اور انہیں تمام مقدمات میں سزائے موت سنائی گئی۔ وکیل کے مطابق چاروں مقدمات میں ملنے والی سزاؤں کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں اور آج چوتھے اور آخری مقدمے میں بھی ان کی اپیل مسترد کردی گئی ہے۔
اس ملاقات کے بعد بھارت کے وزیر خارجہ کنور نٹور سنگھ نے بیان دیا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف سربجیت کو معاف کردیں گے۔ واضح رہے کہ سربجیت سنگھ سن نوے سے مسلسل جیل میں ہیں اور چند ہفتے قبل ان سے اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کے حکام نے ملاقات بھی کی تھی۔ پاکستانی آئین کے مطابق ملک کا صدر کسی بھی مجرم کی رحم کی اپیل پر اس کی سزا کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے حال ہی میں اپنے اوپر ہونے والے حملوں کے ملزمان، جن میں فوجی بھی شامل تھے، کی سزائے موت برقرار رکھی اور ان کو پھانسی دے گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||