’کیس کچھ کمزور ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے جاسوسی کے جرم میں سزا پانے والے بھارتی شہری سربجیت سنگھ کے کیس میں بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انہیں ایک کمزور کیس معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بات بی بی سی کی ہندی سروس کے ساتھ پیر کے روز ایک انٹرویو میں کہی۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اس کیس میں سربجیت کے خلاف کارروائی جس ایف آئی آر کے تحت کی گئی ہے وہ ’بلائنڈ ایف آیی آر‘ ہے یعنی وہ نامعلوم افراد کے خلاف دائر کی گئی۔ اس کے علاوہ اس مجرم نے آٹھ دن کی حوالگی کے بعد جرم کا اعتراف کیا اور جس کے بعد اس کو سزا سنا دی گئی۔
عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ’اس کی بنیاد پر سزائے موت سنانا میں سمجھتی ہوں ٹھیک نہیں۔ جس طرح سے ہماری جج صاحبان فٹا فٹ ڈیتھ پینالٹی دے دیتے ہیں اور بالکل شک کا فائدہ نہیں دیتے ، یہ ایک بہت ہی تکلیف دے چیز ہے۔‘ انہوں نے مزید یہ بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً ساڑھے چھ ہزار قیدی ایسے ہیں جن کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ یہ افراد زیادہ تر پاکستانی شہری ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ معاملہ دونوں ممالک کے مذاکرات پر اثر انداز ہو سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو کسی سودے کا حصہ نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ جہاں انصاف کا تعلق ہے تو شرائط نہیں لگانے چاہئیں۔ اس حوالے سے انہوں یہ کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے کے لیے ’گُڈ وِل جیسچرز‘ ضروری ہیں ’جس طرح انڈیا کے ڈاکٹروں نے ہمارے بچوں کی جانیں بچائیں ، اس طرح ان کا ہمارے قیدی واپس کرنا اور ہمارا ان کے قیدی واپس کرنا گُڈوِل جیسچر ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||