سربجیت: بھارتی حکام کی ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت سے اجازت ملنے کے بعد اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کے حکام تیس اگست کو صبح گیارہ بجے کوٹ لکھپت جیل میں جاسوسی کے الزام کے تحت سزائے موت پانے والے سربجیت سنگھ سے ملاقات کریں گے۔ یہ بات دفتر خارجہ کے ترجمان نعیم خان نے پیر کے روز ہفتہ وار بریفنگ میں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ’سربجیت سنگھ کی شناخت میں غلطی کی بات کرنے والے معاملے کو کنفیوز کرنا چاہتے ہیں‘۔ ان کے مطابق پاکستان کی عدلیہ نے تفصیلی سماعت کے بعد انہیں مجرم قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سربجیت سنگھ عرف منجیت سنگھ لاہور، قصور اور فیصل آباد میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث ہیں اور اس بات کا انہوں نے اعتراف بھی کیا ہے۔ ایک سوال پر ترجمان نے بتایا کہ بھارت کے وزیر خارجہ کنور نٹور سنگھ نے دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر سے سربجیت سنگھ کو انسانی بنیاد پر معاف کرنے کی درخواست کی ہے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ سربجیت سنگھ کے اہل خانہ نے تاحال حکومت پاکستان سےمعافی کی کوئی درخواست نہیں کی۔ نعیم خان نے کہا کہ سربجیت سنگھ کے پاس اب دو راستے ہیں۔ ان کے مطابق یا تو وہ سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کریں یا پھر صدر پاکستان سے رحم کی اپیل کریں۔ منجیت سنگھ عرف سربجیت سنگھ کو مبینہ طور پر بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے پاکستان میں متعدد بم دھماکے کرنے کے جرم میں سن انیس سو نوے میں گرفتار کیا گیا تھا اور ایک سال بعد انہیں لاہور کی ایک انسداد دہشت گردی کی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی اور معاملہ عدالتوں میں التواء کا شکار رہا لیکن گزشتہ ہفتے جب پاکستان کی عدالت اعظمیٰ نے اپیل مسترد کردی تو ایک بار پھر اس بارے میں خبریں شائع ہونا شروع ہوئیں۔ سربجیت سنگھ کے اہل خانہ نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر سربجیت سنگھ کو پھانسی دی گئی تو وہ خودکشی کر لیں گی اور اس کی ذمہ داری ہندوستان و پاکستان کی حکومتوں پر ہو گی۔ سربجیت سنگھ کی سزائے موت معاف کرنے کے بارے میں کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے لیے ایسے وقت میں ان کی سزا معاف کرنا خاصا مشکل فیصلہ ہوگا جب وہ اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کر چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||