BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 September, 2005, 16:29 GMT 21:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پھانسی نہ دینے کا وعدہ نہیں کیا‘

 منجیت سنگھ
منجیت سنگھ کو 1990 میں گرفتار کیا گیا تھا
پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بھارتی اخبار کی اس خبر کی تردید کی ہے کہ حکومت پاکستان سربجیت سنگھ نامی بھارتی شہری کی سزائے موت پر عملدرآمد نہیں کرے گی۔

سربجیت سنگھ کو جس کانام منجیت سنگھ بھی لیا جا رہا ہے پاکستان کی سپریم کورٹ نے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے موت دی ہے۔

بھارت میں پا ئے جانے والے عام تاثر کے برعکس سربجیت سنگھ کو جاسوسی کے الزام میں سزا نہیں ہوئی بلکہ انہیں انیس سو نوے کے چار ایسے مختلف بم دھماکوں میں آٹھ بار سزائے موت سنائی گئی ہے جن میں ستائیس پاکستانی ہلاک ہوئے تھے، قید و جرمانے کی سزائیں اس کے علاوہ ہیں۔

منجیت سنگھ یا سربجیت سنگھ کا مقدمہ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلا۔

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے ایک ہی جج نے چاروں مقدمات کا فیصلہ ایک ہی دن سنایا اور بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے بھی ایک ہی دن ان کی تمام اپیلیں خارج کر دیں۔

اٹھارہ اگست دوہزار پانچ کو سپریم کورٹ نے ان کے تین مقدمات کی اپیلیں خارج کی ہیں جبکہ ایک کا فیصلہ ابھی زیر التواء ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ان کی پیروی سرکاری طور پر مہیا کیے گئے وکیل کرتے رہے البتہ اب سے ڈھائی سال پہلے ان کے اہل خانہ نے فیس دیکر ایک دوسرے وکیل رانا عبدالحمید کو مقرر کیا ہے۔

ان کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کے جج نے ان کو ہر مقدمہ میں ایک ایک بار ،ہلاکتوں پر اور ایک ایک بار، بم دھماکہ کرنے پر(ایکسپلوژو ایکٹ کے تحت) سزائے موت دی ہے۔ لوگوں پر قاتلانہ حملے کے الزام میں سزائیں اس کے علاوہ ہیں۔

ان کے وکیل کہتے ہیں کہ استغاثہ میں کئی ایسے قانونی نکات موجود ہیں جو ملزم کے حق میں جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ منجیت سنگھ ہی نہیں ہے اور اس کے پیدائشی سرٹیفیکٹ سے لیکر اس کاراشن کارڈ اور قومی شناختی کارڈ تک عدالت میں پیش کر دیاگیاہے۔

اس کے علاوہ اس ملزم کی کوئی گرفتاری ہی نہیں ڈالی گئی اورنہ ہی کسی نے ان کا جسمانی ریمانڈ لیا۔

پاکستان فوج کے ایک میجر غلام عباس نے،جو ملٹری انٹیلیجنس میں تھے انہیں نو دس روز تک اپنے پاس رکھنے کےبعد براہ راست ایک مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا جہاں ان کا جو اقبالی بیان دیا گیا اس کے بارے میں بعد میں سربجیت سنگھ یا منجیت سنگھ نے کہا ہے کہ ان کا کوئی بیان ریکارڈ ہی نہیں ہوا۔

انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا بیان لیا گیا نہ انہوں نے کہیں دستخط کیے ہیں۔

وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ مقدمہ کے ریکارڈ کے مطابق مجسٹریٹ نے نہ تو یہ پوچھا کہ ملزم کب سے حراست میں ہے اورنہ ہی یہ پوچھا کہ اس کی شناخت کے کیا ثبوت ہیں۔

ان کے وکیل نے بتایا کہ سربجیت سنگھ یا منجیت سنگھ نےبعد میں عدالت میں بیان دیا ہے کہ وہ شراب کی سمگلنگ کرتے ہیں اور وہ اسی الزام میں پکڑے گئے تھے۔

ان کے بقول پاکستانی حکام نے اصل منجیت سنگھ کو چھوڑ دیا ہے اور انہیں پکڑلیا ہے حالانکہ وہ سربجیت سنگھ ہیں۔ قیدی نے دھماکوں میں ملوث ہونے کی بھی تردید کی ہے۔

ان کے وکیل نے بتایا کہ وہ سپریم کورٹ سے فیصلے کی تفصیلی نقل کے انتظار میں ہیں جس کے بعد وہ تینوں مقدمات میں نظر ثانی کی اپیل دائر کر دیں گے۔

انہوں نے صوبائی محکمہ داخلہ کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں انہوں نے قیدی سے ملاقات کی اجازت طلب کی ہے جو تادم تحریر انہیں نہیں مل سکی تھی۔

’ میں دوسال کی تھی جب میرے ابو مرگئے میں نے تو اپنے ابو کی شکل تک نہیں دیکھی میں ان کے قاتل کو کیسے معاف کردوں؟‘

یہ الفاظ اس سولہ سالہ لڑکی سونیا کے ہیں جن کے والد شوکت جان انیس سو نوے میں بھاٹی گیٹ کے سامنے ایک بم دھماکے میں دیگر آٹھ افراد کے ہمراہ ہلاک ہوگئے تھے۔

سونیا سے پوچھاگیا تھا کہ کیا وہ منجیت سنگھ یا سربجیت سنگھ کو معاف کر سکتی ہیں؟جواب میں ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

پاکستان میں قصاص ودیت کے قانون کے تحت پھانسی کے پھندے پر چڑھنے سے ایک لمحے پہلے بھی اگر مقتول کے ورثا مجرم کو معاف کردیں تو اسے دار پرلٹکانے کی بجائے زندہ سولی سے اتار لیا جاتاہے۔

مقتول کی بیٹی سونیا کو منجیت سنگھ یا سربجیت سنگھ کی بیٹی کے اس بیان کا حوالے دیاگیا جس میں انہوں نے اپنے والد کی سزائے موت کے جواب میں خودکشی کی دھمکی دی ہے تو سونیا نے کہا کہ ان کے والد کو دھماکے کرنے سے پہلے اپنے گھر والوں کے اور دوسرے کے گھروالوں کے بارے میں ضرور سوچنا چاہیے تھا۔

جب معافی کایہی سوال بھاٹی گیٹ کے سامنے ریڑھی لگانے والے شوکت جان کی بیوہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے شوہر کے قاتل کو کیسے اسے معاف کردوں میری تو دنیا ہی لٹ گئی ہے آج تک میں جو مصیبتیں اٹھا رہی ہوں وہ اسی کی وجہ سے تو ہیں۔

شوکت جان بھاٹی گیٹ میں سینما کے سامنے شامی کباب اور بھنے ہوئے مرغ بیچتے تھے۔

ان کی ہلاکت سے سات بچے یتیم ہوئے جن میں چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔
ان کاکہنا ہے کہ ان کے بچوں کی تعلیم ادھوری رہ گئی انہوں نے گھر کا سازو سامان ، برتن کپڑے بیچ کر اور لوگوں کے گھروں میں کام کرکے اور فاقے کاٹ کر بچوں کو پالا ہے۔

بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے گیارہ سالہ لڑکے بلال مصطفی کی ماں نے کہا کہ جب انہوں نے یہ سنا کہ قیدی کی بیٹی کہتی ہے کہ اگر اس کے باپ کو رہا نہ کیاگیا تو وہ خودکشی کرلے گی تو ان کا اپنا دل دہل کر رہ گیا ہے لیکن انہوں نے سربجیت سنگھ یا منجیت سنگھ کو معاف کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر انہیں معافی دی گئی تو یہ ان کے بچے سے ناانصافی ہوگی اور دہشت گردوں کو شہ ملے گی کہ وہ مزید دھماکے کریں اور ماؤں کی گودیں اجاڑیں۔

ستائیس ہلاک شدگان میں سے کسی کے وارث نے سربجیت سنگھ یا منجیت سنگھ کی معافی کے لیے عدالت میں درخواست نہیں دی ہے اور جن تین خواتین سے میں نے یہ سوال پوچھا انہوں نے بھی معافی دینے سے صاف انکار کر دیا حالانکہ ان میں سے کسی نے بھی منجیت سنگھ یا سبجیت سنگھ کو بم دھماکے کرتے نہیں دیکھا اور اس بارے میں ان کا علم صرف پولیس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات تک محدود تھا۔

بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے شوکت جان کی بیوہ نے کہا کہ ’مقدمہ کے سلسلے میں توا ن کے بارہ سالہ بیٹے نے بھی گواہی دی ہےلیکن اس نے اس نے وہی کہا جو پولیس نے اسے پولنے کے لیے کہا تھا۔‘

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک سربجیت سنگھ یا منجیت سنگھ کے خلاف عدالت میں جتنے گواہ پیش ہوئے ان میں سے کوئی منحرف نہیں ہوا ہے۔

سربجیت سنگھ یا منجیت سنگھ کی کہانی دراصل موت سے موت تک کی کہانی ہے۔

ایک طرف وہ ماں ہے جس کے تیرہ سالہ بیٹے کے جسم کے چیتھڑے اڑ گئے تھے اور اس نے پاؤں دیکھ کر اپنے لخت جگر کی لاش شناخت کی تھی تو دوسری طرف سربجیت سنگھ کی وہ نوجوان بیٹی ہے جس نے آج تک اپنے باپ کی شکل نہیں دیکھی ہے وہ کہتی ہے کہ اگر اس کے باپ کو پھانسی دی گئی تو وہ بھی اپنے گلے میں پھندا ڈالکر خود کشی کرلے گی۔

اور اسی کی ہم عمر ایک بچی اس پاکستانی کی ہے جو ایک ایسے بم دھماکے میں مرگیا جس کا الزام منجیت سنگھ پر ہے اور اسے عدالت سے سزائے موت ہوچکی ہے۔

یہ کہانی دوسالہ بچی سونیا کے باپ شوکت جان کی ایک بم دھماکے میں ہلاکت سے شروع ہوتی ہے اور اس بچی کے والد کی موت کی طرف جارہی ہے جسے پورا یقین ہے کہ اس کے والد سربجیت سنگھ بے گناہ ہیں اور انہیں دشمن ملک کی فوج نے اس وقت گرفتار کر لیا جب شراب لیکر سرحد پار کر رہے تھے اور وہ خود دو سال کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد