طاہر کو سزائےموت نہ دیں: برطانیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکومت نے صدر جنرل پرویز مشرف سے پاکستانی نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی باضابطہ اپیل کی ہے۔ مرزا طاہر حسین کو انیس سو اٹھاسی میں ایک ٹیکسی ڈرائیور کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں ٹیکسی ڈرائیور کے قتل کے الزام میں اگلے ماہ پھانسی دی جانی ہے۔ مرزا طاہر حسین کی پھانسی کی سزا کے خلاف درخواستیں پہلے ہی اعلی عدالتوں سے خارج کی جاچکی ہیں اور صدر جنرل مشرف بھی ان کی رحم کی اپیل کو رد کر چکے ہیں۔ اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ برطانوی حکومت کی طرف سے کی جانے والی درخواست کا مقصد طاہر حسین کے جرم سے انکار نہیں ہے بلکہ برطانوی حکومت کسی بھی شخص کو سزائے موت دینے کے اصولی طور پر خلاف ہے۔ پاکستان کے دفترِخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ برطانوی حکومت کی اپیل پر پاکستان کے قوانین کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ برطانوی پارلیمان کے کچھ ارکان اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے پہلے ہی لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن کو مرزا طاہر حسین کی سزا میں کمی کی درخواست کی تھی۔ مرزا طاہر حسین کی سزا کے بارے میں پاکستانی حکام سے بلمشافہ بات کرنے کے لیئے برطانوی ارکان پارلیمان اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا ایک وفد اگلے ماہ پاکستان آ رہا ہے۔ مرزا طاہر حسین کو ایک ٹیکسی ڈرائیور کے قتل میں جب گرفتار کیا گیا تھا تو ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ | اسی بارے میں مشرف حملہ: سپریم کورٹ اپیل سنےگی12 April, 2006 | پاکستان منگیتر کا قتل، ڈاکٹرکو سزائےموت27 April, 2006 | پاکستان حرکت العالمی کے رہنما کو سزائے موت 29 April, 2006 | پاکستان لاہور:’سیریئل کِلر‘ کے لیئے سزائے موت09 May, 2006 | پاکستان ’سربجیت سنگھ سے ملنے دیا جائے‘11 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||