منگیتر کا قتل، ڈاکٹرکو سزائےموت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی ایک عدالت نے ایک ڈاکٹر کو اپنی منگیتر کے قتل کے الزام میں سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔ ڈاکٹر سلیم پر الزام تھا کہ انہوں نے دس سال قبل اپنی منگیتر کو دھوکے سے قتل کر کےلاش کو اپنی کلینک میں دفنا دیا۔پولیس نے ڈاکٹر سلیم کو پانچ سال قبل گرفتار کیا تھا ۔ ایڈیشنل سیشن جج گلشن آرا چانڈیو کی عدالت نے جمعرات کے روز مقدمے کا فیصلہ سناتے ملزم ڈاکٹر سلیم کو سزائے موت سنائی۔ مدعی کے وکیل شہادت اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹر سلیم کی منگنی ان کی کزن شکیلہ سے ہوئی تھی مگر سلیم کی دوستی کلینک پر کام کرنے والی لیڈی ڈاکٹر سے ہوگئی۔ ڈاکٹر سلیم اور لیڈی ڈاکٹر عظمیٰ نے شادی کا فیصلہ کیا اس میں شکیلہ رکاوٹ تھی۔جس سے دور کرنے کے لیئے سلیم نے اس کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔ ایڈووکیٹ شہادت کے مطابق ڈاکٹر سلیم شکیلہ کو گھر سے سیر کے لیے لے گیا اور زہریلی انجیکشن لگا کر قتل کرنے کے بعد اپنی کلینک میں دفن کردیا۔ شکیلہ اور ڈاکٹر سلیم کی گمشدگی کے بعد کلینک میں نئی فرش بندی کی کھدائی کی گئی تو شکیلہ کی لاش بر آمد ہوئی۔ فریادی کے وکیل کے مطابق ڈاکٹر روپوش رہا اور اسے سن دو ہزار میں پولیس گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی۔ عدالت میں یہ ثابت ہوا کہ ڈاکٹر سلیم نے اپنی پسند سے شادی کرنے کے لیئے شکیلہ کو قتل کیا۔ | اسی بارے میں 2 سالہ لڑکی، 40 سالہ منگیتر20 February, 2005 | پاکستان مردہ منگیتر سے شادی11 February, 2004 | صفحۂ اول سندھ: سسرالی ’خودکشیوں‘ میں اضافہ15.08.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||