BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 February, 2005, 14:24 GMT 19:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
2 سالہ لڑکی، 40 سالہ منگیتر

انصاف کا ترازو
پنجاب کے جنوبی شہر راجن پور میں ایک جرگے نے چچا کے ’جرم‘ کی پاداش میں دو سالہ بھتیجی کی شادی چالیس سالہ مرد سے کرنے کا حکم دیا ہے۔

لڑکی کے چچا محمد اکمل کو کئی ماہ قبل ایک شادی شدہ عورت کے بستر پر بیٹھا دیکھا گیا تھا۔ اب محمد اکمل کی بھتیجی کی اس عورت کے خاوند سے شادی کا حکم دیا گیا ہے۔

بے بس پولیس
 اس معاملے کا کوئی شکایت گذار سامنے نہیں آیا ہے اور بالغ ہونے پر شادی کیے جانے کا فیصلہ قابل دست اندازی پولیس نہیں ہے اس لیے پولیس فی الحال اس پر کوئی کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔
ضلعی پولیس افسر
راجن پور کی تحصیل روجھان کے بستی کچا چوہان کے مزاری قبیلے کے عمائدین کے سامنے مقدمہ پیش کیا گیا تھا جس میں محمد اکمل پر الزام تھا کہ ان کو کئی ماہ پہلے ایک شادی شدہ خاتون میمونہ مائی کے بستر پر بیٹھے دیکھا گیا تھا۔

پہلے تو جرگے کے فیصلے کے مطابق اس خاتون کے شوہر الطاف نے اسے طلاق دیدی تھی۔

مقامی پولیس کے مطابق عدت پوری ہونے کے بعد اس خاتون نے دوسری شادی کر لی جس پر اس کے شوہر نے دوبارہ اس مقدمہ کو جرگے میں پیش کر دیا۔

محمد اکمل اس کے بھائی مجاہد اور اس کے دوسرے رشتہ دار جرگے میں پیش ہوئے جس میں یہ فیصلہ سنایا گیا کہ محمد اکمل دو لاکھ تیس ہزار روپے ہرجانہ ادا کرے گا اور اس کے بھائی مجاہد کی دو سالہ بچی کی شادی چالیس سالہ الطاف سے کی جائے گی۔

راجن پور کے ضلعی پولیس افسر مقصودالحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کرائی ہیں جن کے مطابق وعدہ تو ہوا ہے لیکن بچی کی شادی اس کے بالغ ہونے کے بعد کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا کوئی شکایت گزار سامنے نہیں آیا ہے اور بالغ ہونے پر شادی کیے جانے کا فیصلہ قابل دست اندازی پولیس نہیں ہے اس لیے پولیس فی الحال اس پر کوئی کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔

ایک مقامی اخبار کے نامہ نگار عبدالخالق شاکر نے بتایا کہ محمد اکمل کے لواحقین نے ایک لاکھ روپے کی ادائیگی کر دی ہے اور باقی ایک لاکھ تیس ہزار روپے کی ادائیگی باقی ہے ۔

انہوں نے بتایاکہ بچی کے ماموں اختراللہ خاں اور نصراللہ خاں بھی اس جرگے میں موجود تھے اور انہوں نے اس فیصلے پر احتجاج کیا اور مقامی اخبارات کےنمائندوں کو اس فیصلے کی اطلاع دی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد