حرکت العالمی کے رہنما کو سزائے موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے حرکت العالمی کے رہنما کامران عاطف کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔ کامران عاطف پولیس کو سن دو ہزار تین میں امریکی قونصلیٹ پر خودکش حملے سمیت دو ہزار دو میں صدر پرویز مشرف پر ہوائی اڈے پر حملے میں بھی مطلوب تھے۔ان کی گرفتاری پر تیس لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا تھا۔ کراچی میں سن دوہزار چار کو پولیس مقابلے کے بعد کامران عاطف کی گرفتاری عمل میں آئی تھی، اس مقابلے کے دوران ایک راہگیر خاتون ہلاک ہوگئی تھیں۔ انسداد دہشتگری کی عدالت کے جج حق نواز بلوچ نے عورت کے قتل کے الزام میں ملزم کامران عاطف کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی تھی، ہائی کورٹ نے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمے کی پھر سے سماعت کا حکم جاری کیا تھا۔ ہفتے کے روز انسداد دہشتگردی کی اسی عدالت کے جج نے راہگیر خاتون کے قتل کے الزام میں کامران عاطف کو سزائے موت اور عمر قید کی سزا سنائی۔ | اسی بارے میں کراچی دھماکہ، ایک ہلاک چار زخمی25 May, 2004 | پاکستان کراچی دھماکہ: بیس ملزمان زیر حراست 11 June, 2004 | پاکستان کراچی بم دھماکے میں تین ہلاک15 November, 2005 | پاکستان کراچی دھماکہ، ایک شخص گرفتار13 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||