کراچی دھماکہ: بیس ملزمان زیر حراست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے کراچی کے مختلف علاقوں کو محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی لی اور 20 افراد کو حراست میں لیاہے۔ کراچی سے صحافی محمد بن یوسف نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ محمود آباد، اختر کالونی اور ڈیفنس ویو کے علاقوں کو پولیس نے محاصرے میں لیا اور گھر گھر تلاشی لی اور بیس مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ دریں اثنا جمعرات کی شام ان چھ فوجیوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی جو حملے کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس نے ان پانچ مشتبہ افراد کے خاکے جاری کئے ہیں جو، پولیس کے خیال میں، جمعرات کے روز کورکمانڈر کے کاروان پر حملے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ پولیس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جس جگہ جمعرات کو کور کمانڈر کے قافلے پر حملہ کیا گیا تھا وہاں سے ایک بم بھی ملا۔ جو ایک موبائل فون کے ذریعے پھٹ سکتا تھا۔ اس بم کو حملے کے بعد ڈیفیوز کر دیا گیا تھا۔ بم ایک بوری میں رکھا گیا تھا اور اس بوری میں مختلف طرح کے نٹ بولٹ اور لوہے کے ٹکڑے تھے جو بم پھٹنے کی صورت میں اڑ کر لوگوں کو لگتے۔
پولیس نے بم ڈیفیوز کیے جانے کے بعد موبائل پر کال کرنے والے شخص کو بھی حراست میں لیا ہے اور اس شخص کو بھی تلاش کر لیا ہے جس کا موبائل بم دھماکے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اب تک نہ تو کسی تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور نہ ہی پولیس نے کسی پر شک ظاہر کیا ہے۔ تاہم ماہرین اور شہریوں کا خیال ہے کہ اس کا تعلق وانا آپریشن سے ہو سکتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل شوکت نے اسے دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||