BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 June, 2004, 02:45 GMT 07:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دردِ دل، کیا صرف کراچی والوں میں؟

کراچی
ممتاز عالم ِدین مفتی نظام الدین شامزئی کی ہلاکت اور امام بارگاہ علی رضا میں خوفناک خونریز بم دھماکے کے خلاف ہڑتال، اگر دیکھا جائے تو صرف کراچی میں ہوئی۔ سڑکوں پر سناٹا تھا اور ہو کا عالم۔ رات کو دیر تک جاگنے والا شہر دن میں بھی ویران تھا۔

متحدہ مجلسِ عمل نے پورے ملک سے اس ہڑتال کی اپیل کی تھی، مگر کراچی اور کوئٹہ کے سوا سارے ملک میں اس اپیل کو نظر انداز کردیا گیا۔ ہڑتال کی تو صرف کراچی والوں نے، مگر بہت سارے سوال اس رویہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

کراچی کے لئے یہ کوئی پہلی ہڑتال نہیں تھی۔ ابھی گزشتہ ماہ ضمنی انتخابات میں متعدد لوگوں کی ہلاکت کے خلاف بھی ہڑتال ہوئی تھی اور کامیاب رہی تھی، یعنی ہڑتال کی اپیل کرنے والے اسے کامیاب قرار دیتے ہیں۔ مگر کیا یہ ان کی کامیابی یا مقبولیت کی دلیل ہے؟

شاید نہیں ۔ بلکہ یقیناً نہیں ۔ نہ جمعہ کی ہڑتال نہ اس سے پہلے ہونے والی اور نہ ماضی میں ہونے والی وہ تمام ہڑتالیں جن کی تعداد بھی اس شہر کے لوگوں کو یاد نہیں، صرف وہ دکھ یاد ہیں جو ایسی ہڑتالیں اپنے پیچھے چھوڑ جاتی ہیں۔

اس شہر میں کچھ سال پہلے، ایک ماہ میں تین ہڑتالیں ہوئیں اور تینوں ’کامیاب‘ رہیں۔ تینوں ہڑتالوں کی اپیلیں تین مختلف اور متحارب سیاسی جماعتوں نے کی تھی۔اور بعد میں بھی ایک ہفتے میں تین تین دن مسلسل ہڑتالیں کروائی جاتی رہیں اور ہڑتال سے شہر میں سناٹا چھاجاتا اور ہو کا عالم۔اور ان ہڑتالوں کا درمیانی وقفہ بھی زیادہ نہیں ہوتا تھا۔

تو یہ تمام ہڑتالیں جو ماضی میں ہوئیں اور جو کامیاب بھی رہیں صرف کراچی میں ہی ان کی اپیل کا اتنا اثر کیوں ہوتا ہے؟

کیا کراچی والے دوسرے شہروں کے باسیوں سے زیادہ باشعور ہیں کہ انہیں اپنے شہریوں کے مرنے کا زیادہ دکھ ہوتا ہے؟ اگر یوں ہے تو یہ ایک مثبت بات ہے۔ اپنے ہی اپنوں پر زیادہ روتے ہیں۔ رونا بھی چاہیے کہ اپنا دکھ پھر اپنا دکھ ہوتا ہے۔
مگر یہاں یوں بھی ہوا ہے کہ بعض ایسے معاملات پر بھی یہاں ہڑتال ہوئی جو اجتماعی دکھ تھا اور پورے پاکستان اور پورے عالم اسلام کا دکھ تھا۔ مثلاً افغانستان پر امریکی حملہ یا عراق پر امریکی جارحیت۔

اور جب اس وقت ہڑتال کی اپیل کی گئی تو کراچی سب سے آگے تھا۔ یہاں مکمل ہڑتالیں ہوئیں جبکہ ملک کے دوسرے حصوں میں اتنا ردِعمل نہیں ہوا۔
آخر کیوں؟ یہ کیوں ہوتا ہے کہ ہڑتالیں صرف کراچی میں بہت موثر ہوتی ہے۔ کیا یہ ان سیاسی، مذہبی جماعتوں کی مقبولیت کی دلیل ہے؟

مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ ساری سیاسی جماعتیں یکساں مقبول ہوں اور ساری ہی سیاسی جماعتوں کی اپیل پر کراچی کے عوام اور کاروباری حلقے لبیک کہتے ہوں۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ اصل بات بہت واضح ہے خواہ کوئی اس کا اعتراف کرے یا نہ کرے اور اصل بات یہ ہے کہ کراچی ایک خوفزدہ شہر ہے۔ اس کے باسی خوف کا شکار ہیں، شدید خوف کا جو ان کی رگوں میں اتر گیا ہے۔

اور یہ غیر محفوظ لوگوں کا شہر ہے ایسے لوگوں کا شہر جن کا کوئی محافظ نہیں کوئی بھی ان کی دکانیں جلا سکتا ہے ، ان کی بسوں کو آگ لگاسکتا ہے اور ان کے املاک کو تباہ کرسکتا ہے اور کوئی ان کی حفاظت نہیں کرتا۔

ان کے محافظ عام لوگوں کی حفاظت کے غافل ان سے دور اپنے محلوں میں رہتے ہیں۔ بکتر بند گاڑیوں کے حصار میں سفر کرتے ہیں اور رہا عام آدمی تو اس کی جان ومال کی کسی کو پروا نہیں۔

کراچی میں اگر ہڑتالیں کامیاب ہوتی ہیں اور ہمیشہ ہی ہوتی ہیں تو اس کی وجہ اس شہر کی فضا پر چھایا ہوا خوف ہے، شدید خوف جو اس کے باسیوں کی رگوں میں اتر گیا ہے جو انہیں ہر ہڑتال کی اپیل پر لبیک کہنے پر مجبور کرتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد