کراچی ہلاکتوں پر احتجاج کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مذہبی جماعتوں کے اتحاد، متحدہ مجلس عمل نے پاکستان حکومت پر زور دیا ہے کہ قبائلی علاقے ’وانا‘ میں طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے اور قبائلی عمائدین کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔ ان کا یہ بیان پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے اس بیان کے فوری بعد آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اگر بات چیت سے مسئلہ حل نہیں ہوا تو وانا میں فوجی کاروائی شروع کی جائے گی۔ مجلس کے مرکزی رہنماؤں قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمٰن اور علامہ ساجد نقوی نے بدھ کی رات اخباری کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ وزیرستان اور وانا میں قبائلی عمائدین اور حکومت میں معاملات طئے ہوچکے تھے لیکن ان کے بقول امریکی دباؤ پر پاکستان سرکار معاہدے سے مُکر گئی۔ مجلس عمل نے کراچی میں گزشتہ دنوں ہونے والے بم دھماکوں کے خلاف ملک بھر میں جمعہ کے روز یوم احتجاج منانے کا اعلان بھی کیا۔ علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ کراچی میں حملے شیعہ سنی فرقہ وارانہ فسادات کا نتیجہ نہیں۔ قاضی حسین احمد کا سندھ کا گورنر برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کراچی میں حال ہی میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں خفیہ ہاتھ ملوث ہیں اور حکومت کو ان کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کراچی کے اند ماضی میں بھی بیرونی ایجنسیاں متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کے ذریعے ایسی وارداتیں کراتی رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||