غیر ملکیوں کا اندراج پر تعطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے غیر ملکیوں کے ناموں کے اندراج کا معاملہ ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ وانا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق معاہدہ شکئی کے بعد ایک اور معاہدہ جسے معاہدہ وانا کے نام دیا جا رہا ہے پیش کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس نئے معاہدے پر تاحال کس نے دستخط نہیں کئے ہیں۔ معاہدہ وانا کے مطابق علاقے میں موجود تمام غیر ملکیوں کو پولیٹکل ایجنٹ کے سامنے پیش ہو کر غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے سامنے اپنے ناموں کا اندراج کرانا ہوگا۔ ان غیر ملکیوں کو اپنی تصاویر بھی پیش کرنا ہوں گی اور ان کے انگوٹھے کے نشانات بھی لیے جائیں گے۔ اس معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر ملکیوں کو یہ بیان دینا ہوگا کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ معاہدے میں شامل ایک شق کے مطابق جب بھی ضرورت پڑے گی ان غیر ملکیوں کو پولیٹکل ایجنٹ کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ اگر یہ غیر ملکی ایسا کرنے میں ناکام رہے تو حکومت ضامن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکے گی۔ اس سے قبل جمعرات کو زلئی خیل قبائل کے لشکر نے غیر ملکیوں کے خلاف جاری کارروائی کو تین دن کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||