BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 May, 2004, 16:44 GMT 21:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معاہدہ غیرملکیوں کااندراج نہیں

 نیک محمد
نیک محمد اور لیفٹننٹ جنرل صدر حسین کے مابین شکئی کے مقام پر مصالحت ہوئی تھی
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکومت کی جانب سے القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی عناصر کے اندراج کی کوششوں کو اتوار کے روز اس وقت شدید دھچکہ لگا جب ان غیرملکیوں کے قریب سمجھے جانے والے نیک محمد نے اندراج کی شرط کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ یہ شکئی معاہدے کا حصہ نہیں۔

معاہدے کی شرائط
 غیر ملکیوں کے اندراج کا معاملہ شرائط کا حصہ تو نہیں لیکن یہ ’انڈرسٹینڈنگ‘ تھی۔
سیکرٹری فاٹا
غیر ملکیوں کے اندراج کا معاملہ شرائط کا حصہ تو نہیں لیکن یہ ’انڈرسٹینڈنگ‘ تھی۔

دوسری جانب حکومت نے بھی اتوار کے روز احمدزئی وزیر قبائل کے ساتھ وانا میں ایک جرگے میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کے پاس اندراج کے لئے صرف چوبیس گھنٹے بچے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ عصمت اللہ گنڈاپور نے کہا کہ وہ اگر اندراج کروا لیں یا کوئی کارروائی کریں تو وہ اور ان کا علاقہ بچ سکتا ہے۔ ’ورنہ اس کے بعد میرے پاس مدد کے لئے آپ مت آئے گا۔‘

سیکرٹری فاٹا بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وانا کی تمام کارروائی کا مقصد ’پاکستان کی سرزمین کو غیر ملکی عناصر سے پاک کرنا اور ان سے ہتھیار ڈلوانا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکیوں کے اندراج کا معاملہ شرائط کا حصہ تو نہیں لیکن یہ ’انڈرسٹینڈنگ‘ تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کچھ معاملوں پر اختلاف ہے جس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ لوگ تصویر بنوانا غیر اسلامی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران طے شدہ مہلت گزر گئی ہے اور اب حکومت مختلف امکانات پر غُور کر رہی ہے۔

سیکرٹری فاٹا نے کہا کہ اب وہ لشکر کی کارروائی کو دوبارہ شروع کریں گے اور ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی بھی کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ نیک محمد ان کے ساتھ مل کر غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی میں شامل ہوں گے۔

حکومت نے جمعہ کے روز تک کی غیرملکیوں کو اندراج کے لئے دی جانے والی مہلت میں مزید تین روز کی توسیع کافی لعت و لیل کے بعد کی تھی لیکن اب بظاہر کسی مزید اضافے کا امکان کم ہی نظر آرہا ہے۔ اندراج کے ذریعے حکومت ان سے اس بات کی ضمانت مانگ رہی ہے کہ وہ پرامن زندگی گزاریں گے۔

نیک محمد نے اتوار کے روز بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلیفون پر وانا سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ غیرملکی کی موجودگی کی تصدیق نہ انہوں نے پہلے کبھی کہ ہے اور نہ اب کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’آج تک کسی نے غیرملکیوں کی موجودگی ثابت نہیں کی ہے۔ حکومت نے بھی چار پانچ مرتبہ فوج کشی کی لیکن انہیں کچھ نہیں ملا۔‘

ستائیس سالہ نیک محمد نے کہا کہ اندراج کے ذریعے حکومت ان کے خلاف یہ ثبوت بنانا چاہتی کہ ان پاس غیرملکی موجود ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ حکومت کی جانب سے اب کسی کارروائی کی صورت میں وہ کس کا ساتھ دیں گے، نیک محمد نے کہا کہ اگر حکومت نے غیرملکیوں کے نام پر علاقے میں کوئی فوجی کارروائی شروع کی تو یہ شکئی معاہدہ توڑنے کا اعلان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شکئی کے مقام پر حکومت نے خود ہی اندراج کا اعلان کیا اور ہمیں کہا کہ یہ ایک تجویز ہے۔ ’لیکن آج یہ ایک تجویز ہے صبح دوسری تجویز ہوگی۔ ہم بار بار تجاویز قبول نہیں کر سکتے ہیں۔ اگر ہم نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہو تو بتائیں۔ ہم اپنے وعدے پر قائم ہیں۔ ہم حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر وہ معاہدے کو نہیں تسلیم کرتی تو دوسرے کے لئے ہم سے بات کرے۔‘

اندراج کے لئے دی گئی نئی مہلت پیر کے روز ختم ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد