وانا کے اسیر علماء کی رہائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود غیرملکیوں کے اندراج کے طریقۂ کار پر بات چیت جاری ہے تاہم ثالثوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اندراج کے لیے جو مدت مقرر کی ہے اس میں توسیع کی ضرورت ہو گی۔ دریں اثناء جنوبی وزیرستان میں وانا میں حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو ماہ قبل حراست میں لئے گئے تین مقامی علما کو آج رہا کر دیا ہے۔ حکومت نے گزشتہ ہفتے القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب افراد کو گلے لگاتے ہوئے قبائلی علاقوں میں چھپے غیرملکیوں کو ہتھیار ڈال کر حکومت کے پاس اندراج کرانے کے لئے تیس اپریل تک کی مہلت دی تھی جو کل ختم ہو رہی ہے۔ مفتی سراج محمد، مولوی محمد اقبال اور مولوی میر عجم کو حکام کے بقول ان کے قبیلوں نے خود کو بطور ضمانت حکومت کے حوالے کیا تھا۔ حکومت اور مطلوبہ قبائلیوں کے درمیان کامیاب ثالثی کروانے والے مولانا معراج الدین کا کہنا ہے کہ غیرملکی حکومت سے اندراج کرانے کے لئے تیار ہیں لیکن اس کے طریقہ کار پر بات چیت جاری ہے جو ایک دو روز میں مکمل کر لی جائے گی۔ اس سے ایک روز قبل جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے سے منتخب قومی اسبلی کے رکن مولانا معراج الدین اور وزیر قبیلے سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالمالک آج کل اسلام آباد میں حکام سے مذاکرات میں مصروف ہیں۔
مولانا معراج الدین نے بات چیت میں پیش رفت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ فریقین کی جانب سے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی جا رہی اور مسئلہ جلد حل کر لیا جائے گا۔ ’اندراج کے طریقہ کار میں انہیں دقت تھی جس کا اب حل تلاش کر لیا جائے گا۔‘ مولانا معراج الدین کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں مزید ایک دو روز لگ سکتے ہیں جس کے لیے وہ حکومت سے اس مہلت میں توسیع کا مطالبہ کریں۔ حکام کو شک ہے کہ اس قبائلی علاقے میں افغان، عرب اور وسطی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند روپوش ہیں۔ خیال ہے کہ حکومت انہیں پرامن زندگی گزارنے کی ضمانت دینے پر شناختی دستاویز جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مولانا معراج نے ان غیرملکیوں کی تعداد بتانے سے گریز کیا۔
انہیں دو علما اور منتخب نمائندوں نے گزشتہ دنوں حکومت اور اسے مطلوب قبائلیوں کے درمیان کامیاب ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ جن تین علماء کو رہا کیا گیا ہے ان میں سے ایک جنوبی وزیرستان میں ایک مدرسے کے کے سربراہ تھے اور انہیں لشکر نے اپنی کارروائی کے دوران حراست میں لے کر حکومت کے حوالے کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||